یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا؟ (ہاکنگ کی آخری کتاب کا دوسرا باب، پہلا حصہ)

ابتدائے کائنات کا سوال، اور اسٹیفن ہاکنگ کی جستجو

ہیملٹ نے کہا، ’’میں ایک چھوٹے سے خول میں ضرور بند ہوسکتا ہوں، لیکن پھر بھی خود کو لامحدود خلاء کا بادشاہ ہی سمجھوں گا۔‘‘ میرے خیال میں اس کا مطلب یہی تھا کہ ہم انسان اگرچہ جسمانی طور پر محدود ہیں، خاص کر میرے معاملے میں، لیکن ہماری سوچ اس پوری کائنات کو کھنگالنے کیلئے آزاد ہے؛ اور ہم بڑی بہادری سے وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں جانے سے اسٹار ٹریک بھی خوفزدہ ہو۔ کیا یہ کائنات لامحدود ہے، یا پھر یہ صرف ’’بہت ہی بڑی‘‘ ہے؟ کیا اس کی کوئی ابتداء ہے؟ کیا یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گی یا پھر صرف ایک ’’بہت ہی لمبے عرصے کیلئے‘‘ باقی رہ سکے گی؟ ہماری محدود عقل کس طرح ایک لامحدود کائنات کا احاطہ کرسکتی ہے؟ کیا ایسی کوئی کوشش بھی کرنا ہمارے لئے محض ایک لاف زنی کے مترادف نہیں؟

پرومیتھیئس کے انجام (جیسے انجام) کی توقع کرتے ہوئے، کہ جس نے انسانی استعمال کیلئے دیوتاؤں سے آگ چُرا لی تھی، مجھے یقین ہے کہ ہم کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں؛ بلکہ ہمیں یہ کوشش کرنی ہی چاہئے۔ سزا کے طور پر پرومیتھیئس کو ایک چٹان کے ساتھ ہمیشہ کیلئے زنجیروں سے جکڑ دیا گیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ ہرکولیس نے اسے آزاد بھی کروالیا تھا۔ ہم کائنات کو سمجھنے میں پہلے ہی زبردست پیش رفت کرچکے ہیں۔ (البتہ) اب تک ہمارے پاس (کائنات کی) پوری تصویر نہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہم (کائنات کی تصویر) تقریباً مکمل کرچکے ہیں۔

وسطی افریقہ کے ’’بوشونگو‘‘ قبیلے کے مطابق، ابتداء میں صرف تاریکی، پانی اور عظیم دیوتا ’’بمبا‘‘ کا وجود تھا۔ ایک دن بمبا کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور اس نے قے کردی… جس سے سورج برآمد ہوا۔ سورج نے کچھ پانی خشک کردیا، جس سے زمین (خشکی) نمودار ہوئی۔ مگر بمبا کے پیٹ کی تکلیف ختم نہیں ہوئی تھی؛ وہ ایک کے بعد ایک کرکے الٹیاں کرتا چلا گیا جن سے چاند، ستارے اور پھر کچھ جانور وجود میں آئے — تیندوا، مگرمچھ، کچھوا اور، سب سے آخر میں، انسان۔

اس کتاب کا پہلا باب درج ذیل دو حصوں میں پیش کیا جاچکا ہے:

اسٹیفن ہاکنگ کی آخری کتاب کا پہلا باب (پہلا حصہ)

اسٹیفن ہاکنگ کی آخری کتاب کا پہلا باب (دوسرا اور آخری حصہ)

تخلیق کی یہ دیومالائی داستانیں، ایسی ہی دیگر کہانیوں کی طرح، اُن ہی سوالوں کے جوابات دینے کی کوششیں ہیں جو ہم سب پوچھتے ہیں: ہم یہاں کیوں ہیں؟ یہ سب کچھ کہاں سے آیا؟ عمومی جواب یہی دیا جاتا رہا کہ انسان نسبتاً حالیہ زمانے میں وجود پذیر ہوئے ہیں؛ کیونکہ ظاہری سی بات ہے کہ انسانی نسل نے اپنے علم اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ لہٰذا، انسان کا وجود (زمین پر) زیادہ پرانا نہیں ہوسکتا کیونکہ، اگر ایسا ہوتا تو، وہ اس سے کہیں زیادہ ترقی کرچکا ہوتا۔ مثلاً بشپ اُشر کے مطابق (بائبل کی) کتابِ پیدائش (Book of Genesis) سے پتا چلتا ہے کہ وقت کی ابتداء 22 اکتوبر 4004 قبلِ مسیح، شام 6 بجے ہوئی۔ دوسری جانب دیگر موجودات، جیسے کہ پہاڑ اور دریا وغیرہ، پوری انسانی زندگی میں بہت کم تبدیل ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں ایک ’’مستقل پس منظر‘‘ تصور کیا گیا؛ جو ہمیشہ سے ایک خالی زمین کے طور پر موجود رہے ہوں گے یا پھر انہیں انسانی تخلیق کے عین وقت پر ہی تخلیق کیا گیا ہوگا۔

البتہ، ہر کوئی ابتدائے کائنات کے تصور سے خوش نہیں تھا۔ مثلاً ارسطو، مشہور ترین یونانی فلسفی، جسے یقین تھا کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے۔ وہ چیز جو ’’لافانی‘‘ (ہمیشہ سے موجود) ہو، وہ (کسی خاص وقت پر) تخلیق کی گئی چیز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مکمل (perfect) ہوتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ہم یہ (انسانی) ترقی اس لئے دیکھتے ہیں کیونکہ سیلابوں یا دوسری قدرتی آفات کی وجہ سے (انسانی) تہذیب کی بار بار، نئے سرے سے، ابتداء ہوئی۔ ایک لافانی یا ہمیشہ سے موجود کائنات کے تصور کو اس خواہش نے تحریک دی کہ کائنات کی تخلیق اور اسے چلانے کا باعث بننے میں ’’خدائی مداخلت‘‘ (divine intervention) سے بچا جائے۔ اس کے برعکس، جنہیں ابتدائے کائنات پر یقین تھا، انہوں نے اس تصور کو خدا کے وجود کی — علّتِ اُولیٰ (first cause) یا ’’اوّلین محرک‘‘ کی — دلیل کے طور پر پیش کیا؛ ایک ایسی عظیم ترین ہستی جو (کائنات کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ) اس پورے کارخانے کو چلا بھی رہی ہے۔

اگر کوئی یہ یقین رکھتا تھا کہ کائنات کی ابتداء ہوئی تھی، تو اسے کچھ اور سوالوں کا سامنا بھی لازماً رہا: ’’کائنات کی ابتداء سے پہلے کیا ہوا تھا؟ یہ دنیا بنانے سے پہلے خدا کیا کررہا تھا؟ کیا وہ ایسے (بیہودہ) سوالات کرنے والوں کیلئے جہنم تیار کررہا تھا؟‘‘ یہ سوال کہ کائنات کی کوئی ابتداء ہے یا نہیں، جرمن فلسفی امانوئیل کانٹ کیلئے خصوصی توجہ کا باعث تھا۔ اسے احساس ہوا کہ دونوں طرف (کے دلائل میں) منطقی تضادات، یا تناقضات (antinomies) ہیں۔ اگر کائنات کی کوئی ابتداء ہے، تو اس نے اپنی ابتداء سے پہلے لامحدود وقت تک انتظار کیوں کیا؟ اس نے اسے ’’دعویٰ‘‘ (thesis) کا عنوان دیا۔ دوسری جانب، اگر کائنات ہمیشہ سے موجود تھی، تو اسے اپنی موجود حالت تک پہنچنے میں لامتناہی وقت کیوں لگ گیا؟ اس نے اسے ’’جواب دعویٰ‘‘ (antithesis) کہا۔ دعویٰ اور جواب دعویٰ، دونوں کا انحصار کانٹ کے اس مفروضے پر تھا کہ لگ بھگ ہر ایک کیلئے، وقت ایک مطلق (absolute) حیثیت رکھتا ہے۔ مطلب یہ کہ وقت ایک لامحدود ماضی سے لامحدود مستقبل کی طرف بڑھتا ہی چلا جاتا ہے، چاہے اس میں کائنات موجود رہی ہو یا نہ رہی ہو۔

آج بھی کئی سائنسدانوں کے ذہنوں میں یہی تصویر ہے۔ تاہم، البرٹ آئن اسٹائن نے 1915ء میں اپنا انقلابی نظریہ اضافیت (theory of relativity) پیش کیا۔ اس میں خلاء (space) اور وقت (time) کی حیثیت مطلق نہیں رہی تھی — وہ واقعات کا ساکت و جامد پس منظر نہیں رہے۔ اس کے برعکس، وہ (خلاء اور وقت) ایسی سرگرم مقداریں تھے جو کائنات میں مادّے اور توانائی کی بدولت کوئی خاص صورت، کوئی مخصوص ماہیئت اختیار کرتی تھیں۔ وہ صرف کائنات کے اندر ہی محدود (اور قابلِ وضاحت) تھے، لہٰذا ابتدائے کائنات سے پہلے وقت کے بارے میں بات کرنا بالکل ہی بے معنی تھا۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے قطب جنوبی پر کھڑے ہوکر یہ پوچھا جائے کہ ’’جنوب‘‘ کی سمت کہاں ہے؟ (وہاں) اس کا تعین ہی نہیں ہوسکتا۔

اگرچہ آئن اسٹائن کے نظریئے نے وقت اور خلاء کو، زمان و مکان (time and space) کو آپس میں متحد کردیا تھا، اس نے ہمیں خود خلاء کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتایا۔ ظاہری طور پر، خلاء کے بارے میں یہی لگتا تھا کہ یہ تو بس چلی ہی چلی جاتی ہے۔ ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ کائنات، اینٹوں کی کسی دیوار پر جاکر ختم ہوگی، البتہ ایسا نہ ہوسکنے کی کوئی منطقی دلیل بھی نہیں۔ لیکن ہبل خلائی دوربین جیسے جدید آلات ہمیں خلاء میں بہت دور تک دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ اور ہم (اس خلائے بسیط میں) ارب ہا ارب کہکشائیں دیکھتے ہیں؛ جو مختلف جسامتوں اور شکلوں کی ہیں۔ کہیں عظیم و جسیم بیضہ نما کہکشائیں ہیں تو کہیں ہماری اپنی کہکشاں جیسی مرغولہ نما کہکشائیں ہیں۔ ہر ایک کہکشاں میں اربوں کھربوں ستارے ہیں، جن میں سے کئی ایک کے گرد سیارے بھی (چکر لگا رہے) ہیں۔ ہماری اپنی کہکشاں بعض سمتوں میں دیکھنے سے ہمیں باز رکھتی ہے، لیکن اس سے ہٹ کر تمام خلاء میں ساری ہی کہکشائیں لگ بھگ یکساں انداز سے پھیلی ہوئی ہیں، جن میں مقامی طور پر کچھ جھرمٹ (جمگھٹے) بھی ہیں اور خالی جگہیں (voids) بھی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے بہت لمبے فاصلوں پر کہکشاؤں کی کثافت (کسی مخصوص حجم میں کہکشاؤں کی تعداد) کم ہوتی جارہی ہے، لیکن یہ اس لئے لگتا ہے کیونکہ وہ ہم سے اتنی دُور اور مدھم ہیں کہ ہم انہیں مشکل ہی دیکھ پاتے ہیں۔ اب تک ہم اتنا ہی بتا سکتے ہیں کہ کائنات اس پوری خلاء میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے؛ اور چاہے یہ کتنی ہی دُور کیوں نہ چلی گئی ہو، کم و بیش یکساں ہی رہتی ہے۔

اگرچہ خلاء میں کسی بھی مقام پر کائنات تقریباً ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے، مگر یہ وقت کے اعتبار سے یقیناً تبدیل ہورہی ہے۔ اس کا ادراک ہمیں گزشتہ صدی کے ابتدائی برسوں سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ تب تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ کائنات، وقت کے اعتبار سے عملاً مستقل ہے — اس میں بڑے پیمانے پر کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ شاید یہ ایک لامحدود وقت سے موجود ہو، لیکن اس (خیال) کے بڑے اوٹ پٹانگ نتائج برآمد ہوتے تھے۔ اگر ستارے ایک لامحدود وقت سے اپنی شعاعیں (روشنی سمیت) خارج کررہے تھے، تو کائنات کو بھی بتدریج گرم ہوتے ہوتے ان ستاروں جتنا ہی گرم ہوجانا چاہئے تھا۔ یہاں تک کہ رات کے وقت بھی آسمان کو سورج جتنا روشن ہونا چاہئے تھا، کیونکہ ہر خطِ بصارت (line of sight) یا تو کسی روشن ستارے پر جاکر ختم ہوتا یا پھر (دور خلاء میں) گرد کے کسی ایسے بادل پر اختتام پذیر ہوتا جو کسی ستارے کی مانند گرم اور روشن ہوتا۔ لہٰذا ہمارا یہ مشاہدہ کہ رات کے وقت آسمان تاریک ہوتا ہے، بہت اہم ہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی، اس حالت میں کہ جس میں آج ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔ ماضی میں کچھ ایسا ضرور ہوا تھا کہ جس نے ستاروں کو ایک محدود وقت پہلے روشن کیا ہوگا۔ تب ہی یہ ممکن تھا کہ بہت زیادہ دُور ستاروں سے آنے والی روشنی کو اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ ہم تک پہنچ سکے — شاید اِن دور دراز ستاروں سے آنے والی روشنی ہم تک پہنچی نہیں، بلکہ راستے میں ہے۔ اسی سے یہ وضاحت کی جاسکتی ہے کہ رات کے وقت آسمان ہر سمت میں (سورج کی طرح) روشن کیوں نہیں ہوتا۔

اگر ستارے ہمیشہ سے اپنی جگہوں پر موجود ہیں، تو وہ صرف چند ارب سال پہلے، اچانک ہی کیوں روشن ہوئے؟ وہ کونسی ’’گھڑی‘‘ تھی جس نے انہیں بتایا کہ فلاں وقت چمکنا شروع کردو؟ اس بات نے امانوئیل کانٹ جیسے فلسفیوں کو پریشان کرکے رکھ دیا، جنہیں یقین تھا کہ کائنات ہمیشہ سے وجود رکھتی ہے۔ لیکن بہت سے دوسرے لوگوں کیلئے یہ خیال نہایت موزوں اور مناسب تھا کہ کائنات ’’تخلیق‘‘ کی گئی ہے، کم و بیش اسی طرح جیسے آج سمجھا جاتا ہے — لیکن اس فرق کے ساتھ کہ (وہ لوگ) کائنات کی تخلیق کو صرف چند ہزار سال پہلے کا واقعہ سمجھتے تھے، جس طرح بشپ اُشر نے نتیجہ اخذ کیا تھا۔ تاہم، اس خیال میں بھی تضادات اُبھرنے لگے؛ جب 1920ء کے عشرے میں ماؤنٹ ولسن (رصدگاہ پر نصب) 100 انچ قطر کی دوربین سے کائنات کا مشاہدہ کیا گیا۔ سب سے پہلے تو ایڈوِن ہبل نے یہ دریافت کیا کہ آسمان میں دکھائی دینے والے، ٹمٹماتے ہوئے ’’روشن پیوند‘‘ جنہیں اس سے پہلے ’’سحابئے‘‘ (nebulae) کہا جاتا تھا، دراصل کہکشائیں ہیں — وہ ہمارے سورج جیسے ستاروں کے وسیع و عریض جھرمٹ ہیں، مگر ہم سے بہت زیادہ فاصلوں پر واقع ہیں۔ ان کے اتنا مختصر اور مدھم ہونے کیلئے فاصلوں کو اتنا زیادہ ہونا چاہئے تھا کہ اُن سے آنے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں کروڑوں یا اربوں سال تک لگ جائیں۔ اس سے اشارہ ملا کہ کائنات کی ابتداء صرف چند ہزار سال پہلے نہیں ہوسکتی تھی۔

لیکن ہبل کی دوسری دریافت اس سے کہیں زیادہ غیرمعمولی تھی۔ دوسری کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کا تجزیہ کرتے دوران، ہبل یہ پیمائش کرنے کے قابل ہوا کہ وہ (کہکشائیں) ہماری طرف حرکت کررہی ہیں یا ہم سے دور جارہی ہیں۔ اسے یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ کم و بیش تمام کہکشائیں ہی دور ہوتی جارہی تھیں۔ یہی نہیں، بلکہ اس نے یہ بھی دریافت کیا کہ جو کہکشائیں ہم سے جتنی زیادہ دور تھیں، وہ اتنی ہی تیزی کے ساتھ ہم سے اور دور ہوتی جارہی تھیں۔ بہ الفاظِ دیگر: کائنات پھیل رہی ہے۔ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جارہی ہیں۔

یہ دریافت کہ کائنات پھیل رہی ہے، بیسویں صدی کے عظیم علمی انقلابوں میں سے ایک تھی۔ یہ دریافت بالکل غیر متوقع طور پر ہوئی، اور ابتدائے کائنات کے بارے میں بحث کا رُخ ہی بدل کر رکھ دیا۔ اگر کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جارہی ہیں، تو ماضی میں انہیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہونا چاہئے تھا۔ پھیلاؤ کی موجودہ شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم یہ تخمینہ لگا سکتے ہیں کہ وہ درحقیقت ایک دوسرے کے بہت ہی قریب رہی ہوں گی؛ تقریباً دس سے پندرہ ارب سال پہلے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کائنات تب ہی شروع ہوئی ہوگی، جب ہر چیز خلاء میں ایک ہی نقطے پر تھی۔

لیکن بہت سے سائنسداں اس تصور سے ناخوش تھے کہ کائنات کی کوئی ابتداء ہو، کیونکہ اسی سے بظاہر یہ بھی نتیجہ نکل رہا تھا کہ (ابتدائے کائنات کے موقعے پر) طبیعیات کے قوانین بھی جواب دے گئے ہوں گے — بالکل نکمّے اور ناکارہ ہو کر رہ گئے ہوں گے۔ ایسے میں، یہ جاننے کیلئے کہ کائنات کی ابتداء کس طرح ہوئی، ایک بیرونی ’’وسیلے‘‘ (agency) کی ضرورت بھی پیدا ہوتی، جسے کوئی اپنی سہولت کیلئے ’’خدا‘‘ بھی کہہ سکتا ہے۔ لہٰذا، ان سائنسدانوں نے ایسے نظریات پیش کرنا شروع کردیئے جن میں کائنات موجودہ وقت میں تو پھیل رہی تھی، لیکن اس کی کوئی ابتداء ہر گز نہیں تھی۔ ان ہی میں سے ایک ’’یکساں حالت کا نظریہ‘‘ (steady-state theory) تھا، جسے ہرمین بونڈی، تھامس گولڈ اور فریڈ ہوئیل نے 1948ء میں پیش کیا تھا۔

یکساں حالت کے نظریئے میں (جو اپنی اصل میں ایک مفروضہ ہی تھا)، کہکشاؤں کے ایک دوسرے سے ہونے کے ساتھ ساتھ، یہ خیال بھی پیش کیا گیا کہ خلاء میں، مفروضہ طور پر، مسلسل تخلیق ہونے والے مادّے سے نئی کہکشائیں بھی مسلسل بن رہی ہوں گی۔ کائنات ہمیشہ سے موجود رہی ہوگی، اور ہر وقت یکساں ہی دکھائی دیتی ہوگی۔ (کائنات کی) یہ آخری مجوزہ خاصیت ایک واضح پیش گوئی بھی کررہی تھی جسے مشاہدے کے ذریعے جانچا جاسکتا تھا (کہ وہ درست ہے یا غلط)۔ کیمبرج یونیورسٹی میں ریڈیو فلکیات کے ایک تحقیقی گروپ نے، (سر) مارٹن رائل کی سربراہی میں، 1960ء کے عشرے میں (آسمان میں موجود) کمزور ریڈیو لہروں کے منبعوں (sources) کا ایک سروے کیا۔ وہ آسمان میں خاصے یکساں انداز سے پھیلے ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ یہ (کمزور ریڈیو لہریں) ہماری کہکشاں کے باہر کہیں سے آرہی تھیں۔ یعنی یہ منبع جات، اوسطاً ہم سے بہت ہی دور کہیں واقع ہوں گے۔

یکساں حالت کے نظریئے میں (ریڈیو) منبعوں کی تعداد اور (ان سے آنے والی ریڈیو لہروں کی) مضبوطی کے بارے میں بھی ایک تعلق کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ لیکن مشاہدات سے مدھم منبعوں کی جو تعداد سامنے آئی، وہ پیش گوئی کے مقابلے میں زیادہ تھا؛ جو ظاہر کرتی تھی کہ ماضی میں ایسے منبعوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ یہ یکساں حالت والے نظریئے کے بنیادی مفروضے کے بالکل برخلاف بات تھی، جو یہ کہتا تھا کہ ہر چیز ’’وقت کے اعتبار سے مستقل‘‘ ہے۔ یہ اور ایسی دوسری وجوہ کی بناء پر، یکساں حالت کے نظریئے کو بالآخر ترک کردیا گیا۔

اگرچہ ابتدائے کائنات کا تصور، کمیونسٹ نظریات کے نقطۂ نگاہ سے شاید کچھ پسندیدہ نہ رہا ہو لیکن سائنس میں، طبیعیات کے راستے میں، کسی ’’آئیڈیالوجی‘‘ کو کھڑے رہنے کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ بم کیلئے طبیعیات (physics) کی ضرورت تھی، اور یہ بہت سے دوسرے کاموں کیلئے بھی لازمی چیز تھی۔ تاہم، سوویت آئیڈیالوجی نے جینیات کی سچائی سے انکار کرتے ہوئے حیاتیات میں ترقی کو ضرور روکے رکھا۔

ابتدائے کائنات سے چھٹکارا پانے کی ایک اور کوشش میں یہ تجویز کیا گیا کہ ماضی میں ایک ایسا مرحلہ (phase) تھا کہ جب کائنات سکڑ رہی تھی، لیکن (کہکشاؤں کی) گردش اور مقامی طور پر دوسری ناہمواریوں (irregularities) کی بناء پر (کائنات کا) سارا مادّہ ایک ہی نقطے پر جمع نہیں ہوا؛ بلکہ مادّے کے مختلف حصے ایک دوسرے کو چھوئے بغیر، ایک دوسرے سے کنی کتراتے ہوئے، نکلتے چلے گئے۔ اور یوں کائنات ایک بار پھر پھیلنے لگی (جیسا کہ آج ہمیں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے) — جبکہ اس کی کثافت محدود ہی رہی۔ دو روسی سائنسدانوں، ایوجینی لفشز اور ایزاک خالاتنیکوف نے یہ ثابت کرنے کا دعویٰ کیا کہ اگر مکمل تشاکل (exact symmetry) نہ ہو تو کہکشائیں ایک دوسرے کے بہت قریب ضرور آجائیں گی لیکن ایک نقطے پر سمٹے بغیر ہی، دوبارہ ایک دوسرے سے دور بھی جانے لگیں گی — اس طرح کہ کائنات کی کثافت متناہی (finite) رہے گی۔ مارکس اور لینن نے مادّیت پرستی کا جو تصور پیش کیا تھا، یہ نتیجہ اس کے حساب سے بہت تسلی بخش تھا، کیونکہ اس سے ’’کائنات کی تخلیق‘‘ سے متعلق عجیب و غریب سوالات سے بچا جاسکتا تھا۔ اس لئے یہ تصور، سوویت سائنسدانوں کیلئے گویا ایک عقیدہ بن گیا۔

میں نے کونیات (cosmology) میں اپنی تحقیق کا آغاز تقریباً اسی زمانے میں کیا کہ جب لفشز اور خالاتنیکوف نے اپنا یہ نتیجہ شائع کروایا تھا کہ کائنات کی کوئی ابتداء نہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ سوال بہت اہم ہے، لیکن میں لفشز اور خالاتنیکوف کے دلائل سے مطمئن نہیں تھا۔

ہم اس خیال کے عادی ہیں کہ ہر واقعہ، اپنے سے پہلے ہونے والے واقعات کا نتیجہ ہوتا ہے — جو خود سے بھی پہلے کے واقعات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ علیت (causality) کی یہ زنجیر، ماضی میں دور تک چلتی چلی جاتی ہے۔ لیکن فرض کیجئے کہ اس زنجیر کی بھی کوئی ابتداء ہے، فرض کیجئے کہ کوئی ’’سب سے پہلا‘‘ واقعہ ہو۔ اس کی وجہ، اس کی علت کیا تھی؟ یہ ایسا سوال تھا جس پر کوئی سائنسداں بھی بات کرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے تھے، یا تو سوویت سائنسدانوں کی طرح یا پھر ساکن حالت کے نظریئے کو درست ماننے والوں کی مانند (یہ کہہ کر) کہ کائنات کی کوئی ابتداء ہے ہی نہیں۔ یا پھر وہ اس بحث میں پڑتے ہی نہیں تھے بلکہ یہ کہتے تھے کہ ابتدائے کائنات کے سوال کا تعلق، سائنس کے دائرۂ کار سے بالکل باہر ہے — یعنی اس سوال پر مابعد الطبیعیات (metaphysics) یا مذہب کے تحت ہی بحث کی جاسکتی ہے۔ میری رائے میں کسی سچے سائنسداں کو ایسا نقطۂ نگاہ رکھنا ہی نہیں چاہئے۔ اگر سائنسی قوانین، ابتدائے کائنات میں معطل ہوگئے تھے، تو پھر وہ کسی دوسرے موقعے پر ناکارہ کیوں نہیں ہوجاتے؟ اگر کوئی قانون کچھ ہی مواقع کارآمد ہو (اور کچھ مواقع پر معطل ہو کر رہ جائے) تو بھلا وہ قانون ہی کیسا ہوا؟ مجھے یقین ہے کہ ہمیں کائنات کی ابتداء کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کام ہماری قوت سے باہر ہو، لیکن ہمیں یہ کام کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے۔

راجر پنروز اور میں نے جیومیٹری کے اثباتی مسائل (theorems) ثابت کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ کائنات کی ابتداء لازماً ہونی چاہئے — بشرطیکہ آئن اسٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت درست ہو، اور کچھ دیگر مناسب شرائط بھی پوری ہورہی ہوں۔ ریاضی کے اثباتی مسائل کے سامنے حیل و حجت کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے، لہٰذا لفشز اور خالاتنیکوف کو، آخرکار، شکست تسلیم کرتے ہوئے یہ ماننا پڑا کہ کائنات کی ابتداء ہوئی تھی۔ اگرچہ ابتدائے کائنات کا تصور، کمیونسٹ نظریات کے نقطۂ نگاہ سے شاید کچھ پسندیدہ نہ رہا ہو لیکن سائنس میں، طبیعیات کے راستے میں، کسی ’’آئیڈیالوجی‘‘ کو کھڑے رہنے کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ بم کیلئے طبیعیات (physics) کی ضرورت تھی، اور یہ بہت سے دوسرے کاموں کیلئے بھی لازمی چیز تھی۔ تاہم، سوویت آئیڈیالوجی نے جینیات کی سچائی سے انکار کرتے ہوئے حیاتیات میں ترقی کو ضرور روکے رکھا۔

اگرچہ میرے اور پنروز کے اثباتی مسائل یہ ثابت کرچکے تھے کہ کائنات کی ابتداء لازماً ہونی چاہئے، لیکن ان سے ابتدائے کائنات کی نوعیت کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا۔ ان سے صرف اتنا پتا چلتا تھا کہ کائنات کی ابتداء ’’بگ بینگ‘‘ سے ہوئی، ایک ایسا موقعہ کہ جب یہ پوری کی پوری کائنات، لامتناہی کثافت والے ایک نقطے میں گویا ’’کچل کچل کر‘‘ بھری ہوئی تھی — زمان و مکان کی وحدانیت (singularity) میں ایک پوری کائنات سمائی ہوئی تھی۔ اس موقعے پر آئن اسٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت بھی ناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ لہٰذا، اس کی مدد سے یہ پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کہ کائنات، کس انداز میں شروع ہوئی تھی۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ ابتدائے کائنات کا معاملہ (اب بھی) سائنس کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔

اس بات کا مشاہداتی ثبوت کہ کائنات کی ابتداء انتہائی کثیف تھی، اکتوبر 1965ء میں ملا، میرے وحدانیت والے پہلے نتیجے کے صرف چند ماہ بعد — جب ساری خلاء کے پس منظر میں پھیلی ہوئی، مدھم سی خرد موجی (مائیکروویو) شعاعیں دریافت ہوئیں۔ یہ وہی مائیکروویوز ہیں جو آپ کے مائیکروویو اوون میں ہوتی ہیں، البتہ ان کے مقابلے میں بے حد کمزور ہیں۔ یہ آپ کے پیزا کو منفی 270.4 درجے سینٹی گریڈ (منفی 518.72 درجے فیرن ہائیٹ) تک ہی گرم کرسکیں گی، جو پیزا کو پگھلانے کیلئے بھی مناسب نہیں، چہ جائیکہ اس سے پیزا پکایا جائے۔ آپ ان مائیکروویز کا مشاہدہ خود بھی کرسکتے ہیں۔

آپ میں سے جن لوگوں کو اینالاگ ٹیلی ویژن یاد ہوں، وہ اِن مائیکروویوز کا مشاہدہ ضرور کرچکے ہوں گے۔ اگر آپ نے کبھی اپنے ٹیلی ویژن کو خالی چینل پر سیٹ کیا ہو، تو (ٹی وی اسکرین پر دکھائی دینے والی) جھائیوں کا چند فیصد حصہ ان ہی ’’کائناتی پس منظر والی مائیکروویوز‘‘ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پوری کائنات کے پس منظر میں ہر جگہ پھیلی ہوئی ان مائیکروویوز کی ایک ہی معقول وضاحت ممکن ہے: یہ (کائنات کی) بالکل ابتداء میں ایک بہت ہی گرم اور کثیف حالت سے خارج ہونے والی شعاعوں کی باقیات ہیں۔ جیسے جیسے کائنات پھیلتی گئی، ویسے ویسے یہ شعاعیں (ریڈی ایشن) بھی سرد پڑتی چلی گئیں — یہاں تک کہ اُن مدھم باقیات کی شکل میں رہ گئیں کہ جن کا مشاہدہ آج ہم کائنات کے خرد موجی (مائیکروویو) پس منظر کی صورت میں کرتے ہیں۔

اس باب کا دوسرا حصہ جلد ہی پیش کیا جائے گا۔