یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا؟ (ہاکنگ کی آخری کتاب کا دوسرا باب، دوسرا حصہ)

اسٹیفن ہاکنگ ایک اور بڑے سوال کے تعاقب میں: کائنات کی ابتداء کیسے ہوئی؟

اس باب کا پہلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔

ایک ’’وحدانیت‘‘ (سنگولیریٹی) سے کائنات کا آغاز ایک ایسا تصور تھا جس سے میں اور بہت سے دوسرے لوگ ناخوش تھے۔ آئن اسٹائن کا عمومی نظریۂ اضافیت، بگ بینگ کے قریب پہنچنے پر اس لئے جواب دے جاتا ہے کیونکہ وہ ایک کلاسیکی (classical) نظریہ ہے۔ مطلب یہ کہ اس میں بنیادی طور پر یہ فرض کیا گیا ہے کہ ہر ذرّے کی ایک واضح شدہ (well-defined) پوزیشن اور ایک واضح شدہ رفتار بھی ہے۔ ایسے کسی بھی ’’کلاسیکی نظریئے‘‘ میں، اگر ہم کسی خاص وقت پر کائنات میں موجود تمام ذرات کی پوزیشنوں اور رفتاروں سے واقف ہوں تو (اس نظریئے کی مدد سے) ہم یہ حساب بھی لگا سکتے ہیں کہ — ماضی یا مستقبل میں — وہ ذرات کیسے (یعنی کس پوزیشن پر اور کس رفتار کے ساتھ) ہوں گے۔

تاہم، بیسویں صدی کی ابتداء میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بہت ہی مختصر فاصلوں پر (انتہائی مختصر پیمانوں کیلئے) وہ ٹھیک ٹھیک حساب نہیں لگاسکتے کہ کیا ہوا ہوگا۔ بات صرف یہی نہیں تھی کہ انہیں بہتر نظریات کی ضرورت تھی۔ (بلکہ، اس سے بھی بڑھ کر) ایسا لگ رہا تھا جیسے فطرت میں ایک خاص درجے کی بے قاعدگی (randomness) یا بے یقینی (uncertainty) موجود ہو — چاہے ہم کتنا ہی بہترین نظریہ کیوں نہ ترتیب دے لیں۔ اس کا خلاصہ ’’اصولِ عدم یقین‘‘ (Uncertainty Principle) میں کیا جاسکتا ہے جسے جرمن سائنسداں، ورنر ہائزن برگ نے 1927ء میں پیش کیا۔ (اس کے تحت، بہت ہی مختصر پیمانے پر) یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ذرّے کی رفتار اور پوزیشن کی پیش گوئی ایک ساتھ، پوری درستی (accuracy) سے کی جاسکے۔ پوزیشن سے متعلق پیش گوئی جتنی زیادہ درست ہوگی، اتنی ہی کم درستی کے ساتھ ہم اس کی رفتار کی پیش گوئی کر سکیں گے؛ اور اگر رفتار کی پیش گوئی میں درستی زیادہ ہوگی، تو اسی حساب سے پوزیشن کے بارے میں پیش گوئی کی درستی کم ہوتی جائے گی۔

آئن اسٹائن نے اس خیال پر شدید اعتراض کیا کہ کائنات پر ’’امکان‘‘ (chance) کی حکمرانی ہو۔ اس کا مشہور قول ’’خدا پانسے نہیں کھیلتا‘‘ (God does not play dice) اس کے انہی احساسات کا خلاصہ تھا۔ لیکن ساری شہادت یہی ہے کہ خدا تو واقعی میں جواری ہے۔ کائنات ایک بہت بڑے کیسینو (جوا خانے) کی طرح ہے جس میں ہر وقت پانسے پھینکے جارہے ہیں اور — ہر موقعے پر (جوا کھیلنے کیلئے مخصوص) پہئے گھمائے جارہے ہیں۔ ہر بار کہ جب کوئی پانسہ پھینکا جاتا ہے یا رولیٹ (جوا کھیلنے کیلئے مخصوص پہیہ) گھمایا جاتا ہے، تو کیسینو کا مالک اپنی دولت سے محروم ہونے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ لیکن کھیلی جانے والی بازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو تو (کیسینو کے مالک کو خسارہ پہنچانے والے) نتائج، اوسط کرنے پر، برابر ہوجاتے ہیں؛ اور کیسینو کا مالک یقینی بناتا ہے کہ یہ ’’اوسط‘‘ اس کے حق میں جائے، اس کی دولت میں اضافہ ہی کرے۔ اسی لئے تو کیسینو مالکان بہت امیر ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف آپ کے جیتنے کا امکان صرف اسی صورت میں ہے کہ جب آپ اپنی ساری رقم صرف چند بار پھینکے گئے پانسوں پر — یا چند بار گھمائے گئے پہیوں پر — لگادیں۔

کائنات کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جب کائنات بہت بڑی ہوتی ہے، تو اس میں لڑھکائے جانے والے پانسوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، اور نتائج کا اوسط کچھ اس طرح نکلتا ہے کہ اس کی پیش گوئی بھی کی جاسکتی ہے۔ لیکن جب کائنات بہت ہی چھوٹی ہو، بگ بینگ کے بہت ہی قریب ہو، تو پھر لڑھکائے جانے والے پانسوں کی تعداد بھی بہت کم رہ جاتی ہے؛ اور یوں اصولِ عدم یقین بہت اہم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی ابتدائے کائنات کو سمجھنا چاہتا ہے، تو ضروری ہے کہ وہ اصولِ عدم یقین کو آئن اسٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کا حصہ بھی بنائے۔ کم از کم پچھلے تیس سال سے نظری طبیعیات (theoretical physics) میں یہ ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ ہم اب تک اسے حل تو نہیں کر پائے ہیں، البتہ ہم نے اس ضمن میں خاصی پیش رفت ضرور کرلی ہے۔

اب فرض کیجئے کہ ہم مستقبل کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ ہم کسی ذرے کی پوزیشن اور رفتار کی مجموعی کیفیت کے بارے میں ہی تھوڑا بہت جانتے ہیں (جو مکمل طور پر درست بھی نہیں) اس لئے ہم مستقبل میں ذرات کی پوزیشنوں اور رفتاروں کے بارے میں بھی ٹھیک ٹھیک پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ البتہ، ہم صرف اتنا کرسکتے ہیں کہ کچھ مخصوص پوزیشنوں اور رفتاروں کی کچھ مجموعی کیفیات کو ایک امکان، ایک احتمال (probability) تفویض کردیں۔ لہٰذا، کائنات کے کسی خاص مستقبل کیلئے کوئی مخصوص ’’امکان‘‘ ہی دستیاب ہوگا۔ لیکن فرض کیجئے کہ ہم اسی طرح سے ماضی کو بھی سمجھنا چاہتے ہیں۔ (تو پھر ہم کیا کریں گے؟)

ان مشاہدات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو ہم آج کرسکتے ہیں، ہم کائنات کی کسی خاص تاریخ کو بھی ایک مخصوص امکان تفویض (assign) کرسکتے ہیں۔ اس طرح کائنات کی بہت سی ممکنہ تواریخ (possible histories) بھی ہوں گی جن میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ امکان ہوگا۔ کائنات کی ایک ممکنہ تاریخ میں برطانیہ نے دوبارہ ورلڈ کپ جیت لیا ہے، مگر اس کا امکان بہت ہی کم ہوگا۔ یہ خیال کہ کائنات کی بہت سی ’’تواریخ‘‘ (ہسٹریز) ہیں، سائنس فکشن کی طرح محسوس ہوتا ہے، لیکن اب اسے سائنسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اس کی وجہ رچرڈ پی فائن مین ہے، جو مؤقر و معتبر ادارے ’’کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ سے وابستہ تھا اور جو سڑک کے ساتھ گھاس کی پگڈنڈی پر بونگو ڈرمز بجایا کرتا تھا۔ یہ جاننے کیلئے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، فائن میں نے یوں کیا کہ ہر ممکنہ تاریخ کو ایک مخصوص امکان تفویض کردیا؛ اور پھر اس خیال کو پیش گوئی کرنے میں استعمال کیا۔ یہ طریقہ مستقبل کی پیش گوئی کرنے میں بہت کامیاب رہا۔ لہٰذا ہم بجا طور پر تصور کرسکتے ہیں کہ یہی طریقہ اُلٹ سمت میں، ماضی کیلئے بھی اسی طرح کارآمد رہے گا۔

اب سائنسداں اس پر کام کررہے ہیں کہ آئن اسٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت اور متعدد تواریخ (multiple histories) سے متعلق فائن مین کے تصور کو یکجا کرتے ہوئے ایک ایسا متحدہ (unified) نظریہ ترتیب دیا جائے جو کائنات میں ہونے والی ہر چیز کی، ہر واقعے کی معقول وضاحت کرسکے۔ یہ ’’متحدہ نظریہ‘‘ ہمیں یہ حساب لگانے کے قابل بنائے گا کہ اگر ہمیں کسی خاص وقت پر کائنات کی حالت معلوم ہو، تو وہ کس طرح ارتقاء پذیر ہوگی۔ لیکن ’’متحدہ نظریہ‘‘ ہمیں یہ نہیں بتائے گا کہ کائنات کی ابتداء کیسے ہوئی — یعنی اس کی ابتدائی حالت کیا تھی۔ اس کیلئے ہمیں ’’کچھ اور‘‘ کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں ان چیزوں کو جاننا ہوگا جنہیں ’’سرحدی کیفیات‘‘ (باؤنڈری کنڈیشنز) کہاں جاتا ہے، جو ہمیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی انتہائی حدود پر، زمان و مکان کے کناروں پر کیا ہوتا ہے۔ اگر کائنات کی سرحد، زمان و مکان کا کوئی عام سا مقام (نقطہ یا پوائنٹ) ہوئی تو پھر ہم اس سے مزید آگے بڑھ سکیں گے اور اس کے بعد والے علاقے کو، کائنات کے ایک حصے کے طور پر، کھنگال سکیں گے۔ دوسری جانب، اگر کائنات کی یہ حد ناہموار (jagged) یا نوکیلے کنارے کی طرح ہوئی، کہ جہاں زمان یا مکان کچلی ہوئی، مسخ شدہ حالت میں ہوئے — اور کثافت (density) بھی لامحدود ہوئی — تو بامعنی (اور قابلِ فہم) سرحدی کیفیات کا تعین کرنا بہت مشکل ہوگا۔ (کیونکہ) ایسی صورت میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ کیسی سرحدی کیفیات (باؤنڈری کنڈیشنز) کی ضرورت ہے۔ تب ہمارے پاس کوئی معقول جواز موجود ہی نہیں ہوتا جسے بنیاد بنا کر ہم کسی ایک باؤنڈری کنڈیشن کے مقابلے میں کوئی دوسری باؤنڈری کنڈیشن منتخب کرسکیں۔ (یعنی ہم اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود، گویا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ہی ماررہے ہوتے ہیں!)

یہ حقیقت کہ ہم ایک ایسی مخلوق ہیں جو ’’کائنات ایسی ہی کیوں ہے جیسی کہ یہ ہے؟‘‘ اور ایسے ہی دوسرے سوالات پوچھ سکتی ہے، اس تاریخ پر پابندی لگاتا ہے کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہ نکتہ ’’بشری اصول‘‘ (Anthropic Principle) کی ایک مثال ہے۔ بشری اصول یہ کہتا ہے کہ کائنات کو کم و بیش ویسا ہی ہونا چاہئے کہ جیسا ہم اسے دیکھتے ہیں، کیونکہ اگر یہ اس سے مختلف ہوتی تو (ہم یا ہماری طرح) کوئی بھی اس کا مشاہدہ کرنے والا یہاں نہیں ہوتا۔

البتہ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا باربرا کے جم ہارٹل اور میں نے ایک تیسرے امکان کے بارے میں بھی سوچا۔ ہم نے محسوس کیا کہ شاید زمان و مکان میں کائنات کی کوئی حد (باؤنڈری) ہی نہ ہو۔ پہلی نظر میں یہ بات، جیومیٹری کے اُن تھیورمز کے بالکل متضاد دکھائی دیتی ہے جس کا تذکرہ میں پہلے کرچکا ہوں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کی لازماً کوئی ابتداء ہونی چاہئے، یعنی وقت کے اعتبار سے ایک حد (باؤنڈری)۔ تاہم، فائن مین کی تکنیکوں کو ریاضیاتی طور پر متعین اور واضح (well-defined) رکھنے کیلئے ریاضی دانوں نے ایک اور تصور وضع کیا ہے جسے ’’مجازی وقت‘‘ (imaginary time) کہا جاتا ہے۔ اس کا حقیقی وقت سے، یعنی اُس وقت سے کوئی تعلق نہیں جس کا مشاہدہ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس — دراصل — یہ ایک ریاضیاتی ترکیب، ایک طرح کی ’’جگاڑ‘‘ ہے جس کا مقصد (لگائے گئے) حساب کتاب کو قابلِ عمل بنانا ہے؛ جہاں یہ حقیقی وقت کی جگہ لے لیتا ہے۔ تو ہمارے خیال کا مطلب یہ تھا کہ مجازی وقت میں باؤنڈری کا کوئی وجود نہیں۔ اس طرح ’’سرحدی کیفیات‘‘ (باؤنڈری کنڈیشنز) ایجاد کرنے کی ضرورت ہی ختم ہوگئی۔ اپنے اس خیال کو ہم نے ’’غیر حدی تجویز‘‘ (no-boundary proposal) کا نام دیا۔

اگر کائنات کی باؤنڈری کنڈیشن یہ ہو کہ مجازی وقت میں اس کی کوئی حد، کوئی باؤنڈری ہی نہ ہو تو اس سے صرف ایک تاریخ ہی کا خاتمہ نہیں ہوگا، بلکہ مجازی وقت میں (ابتدائے کائنات کو بیان کرنے والی) بہت ساری ’’تواریخ‘‘ (histories) دستیاب ہوں گی؛ جن میں سے ہر ایک، حقیقی وقت میں، (کائنات کی) ایک الگ تاریخ کا تعین کرے گی۔ لہٰذا، ہمارے پاس کائنات کی تواریخ کی بھرمار ہوگئی۔ اب سوال یہ تھا کہ ان تمام ممکنہ تواریخ میں سے کوئی ایک تاریخ، یا تواریخ کا کوئی مجموعہ، کونسا ہے جو اُس کائنات پر پورا اُترتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں؟

ایک بات کا ہمیں بہت جلد اندازہ ہوگیا کہ کائنات کی ان تواریخ میں سے کئی ایسی تھیں جو کہکشاؤں اور ستاروں کے بننے والے مرحلے سے بالکل بھی نہیں گزرتیں — یعنی خود ہمارے اپنے وجود کی سب سے بنیادی ضرورت پوری ہی نہیں کرتیں۔ ایسا ضرور ممکن ہے کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے بغیر ہی ذہین ہستیاں (intelligent beings) ارتقاء پذیر ہوجائے، لیکن بظاہر ایسا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ لہٰذا، یہ حقیقت کہ ہم ایک ایسی مخلوق ہیں جو ’’کائنات ایسی ہی کیوں ہے جیسی کہ یہ ہے؟‘‘ اور ایسے ہی دوسرے سوالات پوچھ سکتی ہے، اس تاریخ پر پابندی لگاتا ہے کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہ نکتہ ’’بشری اصول‘‘ (Anthropic Principle) کی ایک مثال ہے۔ بشری اصول یہ کہتا ہے کہ کائنات کو کم و بیش ویسا ہی ہونا چاہئے کہ جیسا ہم اسے دیکھتے ہیں، کیونکہ اگر یہ اس سے مختلف ہوتی تو (ہم یا ہماری طرح) کوئی بھی اس کا مشاہدہ کرنے والا یہاں نہیں ہوتا۔

اس باب کا تیسرا اور آخری حصہ جلد ہی پیش کیا جائے گا۔