یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا؟ (ہاکنگ کی آخری کتاب کا دوسرا باب، تیسرا اور آخری حصہ)

اسٹیفن ہاکنگ ایک اور بڑے سوال کے تعاقب میں: کائنات کی ابتداء کیسے ہوئی؟

آگے بڑھنے سے پہلے اس باب کے درج ذیل دو حصے ضرور پڑھ لیجئے:

یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا؟ (ہاکنگ کی آخری کتاب کا دوسرا باب، پہلا حصہ)

یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا؟ (ہاکنگ کی آخری کتاب کا دوسرا باب، دوسرا حصہ)

بہت سے سائنسدانوں کو بشری اصول شدید ناپسند ہے، کیونکہ یہ محض ایک مبہم سے اشارے کی مانند ہے، جس میں پیش گوئی کرنے کی کوئی خاص طاقت موجود ہی نہیں۔ لیکن بشری اصول کو ایک نپے تلے اور واضح فارمولے کی شکل دی جاسکتی ہے؛ اور یہ بطورِ خاص اُس وقت خصوصی اہمیت اختیار کرجاتا ہے جب ہمارا واسطہ ابتدائے کائنات کے سوال سے ہو۔ ایم تھیوری (M-theory)، جو اس وقت ’’مکمل متحدہ نظریئے‘‘ کی بہترین امیدوار بھی ہے، کائنات کیلئے ممکنہ تواریخ کی ایک بہت بڑی تعداد کی گنجائش رکھتی ہے۔ (مگر) ان میں سے بیشتر تواریخ کسی بھی ذہین زندگی کی وجود پذیری اور ارتقاء کیلئے بالکل غیر موزوں ہیں۔ (کائنات کی) وہ تواریخ یا تو بالکل خالی ہیں، یا بہت ہی مختصر وقت کیلئے ہوتی ہیں، یا بہت زیادہ خمیدہ (curved) ہیں، یا پھر کسی اور طرح سے غلط ہیں۔ لیکن، فائن مین کے ’’کثیر تواریخی‘‘ (multiple-histories) تصور کے مطابق، ان غیر آباد کائناتی تواریخ کا امکان بہت ہی زیادہ ہے۔

ہمیں (کائنات کی) ایسی تواریخ کی کوئی پرواہ نہیں کہ جن میں ذہین مخلوقات موجود نہ ہوں۔ ہمیں تو کائناتی تواریخ کے صرف اس ذیلی مجموعے (سب سیٹ) میں دلچسپی ہے کہ جہاں ذہین حیات پروان چڑھ سکتی ہو، ارتقاء پذیر ہوسکتی ہو۔ البتہ، ضروری نہیں کہ وہ ذہین حیات ہم انسانوں جیسی ہی ہو۔ چھوٹے سبز آدمیوں سے بھی کام چل جائے گا۔ درحقیقت، وہ شاید ہم سے بھی بہتر ہوں۔ سمجھداری اور ذہانت پر مبنی طرزِ عمل میں انسانی نسل کا ریکارڈ ویسے بھی بہت اچھا نہیں۔

بشری اصول کی طاقت سمجھنے کیلئے خلاء (اسپیس) میں جہتوں کی تعداد پر غور کیجئے۔ عام مشاہدے اور تجربے کی بات ہے کہ ہم ایک سہ جہتی (three-dimensional) خلاء میں رہ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم خلاء میں کسی بھی نقطے کے مقام (پوزیشن) کا اظہار، تین اعداد سے کر سکتے ہیں۔ مثلاً عرضِ بلد (latitude)، طولِ بلد (longitude) اور سطح سمندر سے اونچائی (height)۔ لیکن یہ خلاء ’’سہ جہتی‘‘ ہی کیوں ہے؟ اس میں جہتوں کی تعداد — سائنس فکشن کی طرح — دو، چار یا کچھ اور کیوں نہیں؟ دراصل ایم تھیوری میں خلاء کی دس جہتیں ہیں (جبکہ ایک اور جہت وقت کی ہے)، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان دس میں سے سات جہتیں انتہائی مختصر پیمانے پر، سکڑی سمٹی (curled) حالت میں ہیں، جبکہ صرف تین جہتیں ’’بڑی‘‘ اور تقریباً سپاٹ (flat) ہیں۔ یہ معاملہ، کولڈ ڈرنک پینے والی نلکی (اسٹرا) جیسا ہے۔ اسٹرا کی سطح دو جہتی (two-dimensional) ہے۔ البتہ اس کی ایک جہت مڑی ہوئی ہے اور چکر کھا کر ایک چھوٹے سے دائرے کی شکل میں آگئی ہے— اس طرح کہ دور سے یہ نلکی ’’یک جہتی‘‘ (one-dimensional) لکیر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

چلئے، ٹھیک ہے، بات مان لی۔ تو پھر ہم (کائنات کی) کسی ایسی تاریخ میں کیوں نہیں رہتے جس میں آٹھ جہتیں تو حد درجہ خم کھائی ہوئی (curled) حالت میں، بہت مختصر پیمانے پر بند ہوں جبکہ (خلاء) کی صرف دو جہتیں ہی کھلی ہوئی ہوں کہ جنہیں ہم دیکھ سکیں، ان کا مشاہدہ کرسکیں؟ کسی دو جہتی جانور کیلئے غذا کو کھانا اور ہضم کرنا بے حد مشکل ہوگا۔ اگر اس کی آنتیں اس میں سے گزر رہی ہوئیں (تاکہ وہ کھانا کھانے اور اسے ہضم کرنے کے بعد فضلہ خارج بھی کرسکے) تو یہ اس جانور کے پورے وجود کو دو حصوں میں تقسیم کردیں گی؛ اور اس بے چارے جانور کے تو گویا ٹکڑے ہی اُڑ جائیں گے۔ لہٰذا، دو سپاٹ جہتیں کسی پیچیدہ وجود اور کسی ذہین مخلوق کیلئے بالکل ناکافی ہیں۔ تین جہتوں کا معاملہ کچھ خاص ہے۔ تین جہتوں میں ستاروں کے گرد سیاروں کے مدار قیام پذیر (stable) ہیں۔ یہ اس لئے ہے کیونکہ قوتِ ثقل (گریوی ٹیشن)، معکوس مربع کے قانون (inverse square law) کی پابندی کرتی ہے؛ جسے 1665ء میں رابرٹ ہُک نے دریافت کیا تھا اور آئزک نیوٹن نے اسے (جامع مساواتوں کے ذریعے) واضح کیا تھا۔

اسے سمجھنے کیلئے دو اجسام (bodies) کے درمیان قوتِ ثقل کا تصور کیجئے، جو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر ہوں۔ اگر ہم فاصلہ دگنا (ڈبل) کردیں گے تو (ان دونوں اجسام کے درمیان قوتِ ثقل) ایک چوتھائی رہ جائے گی — یعنی ہمیں قوتِ ثقل کی ابتدائی مقدار کو چار (4) سے تقسیم کرنا ہوگا۔ اگر درمیانی فاصلہ تین گنا بڑھا دیا تو پھر نو (9) سے، چار گنا کرنے پر سولہ (16) سے… اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا جائے گا۔ اس کا نتیجہ سیاروں کے قیام پذیر مداروں (stable orbits) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اب ہم فرض کرتے ہیں کہ خلاء چار جہتی (four-dimensional) ہے۔ ان حالات میں قوتِ ثقل ’’معکوس مکعب کے قانون‘‘ (inverse cube law) کی پاسداری کرے گی۔ اب اگر دو اجسام کا درمیانی فاصلہ دگنا کردیا جائے، تو قوتِ ثقل کو آٹھ (8) سے تقسیم کرنا ہوگا، فاصلہ تین گنا کرنے پر ستائیس (27) سے، اور چار گنا کرنے پر چونسٹھ (64) پر تقسیم کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ معکوس مکعب کے قانون کے تحت یہ تبدیلی، سیاروں کو اپنے ستاروں کے گرد قیام پذیر مداروں میں رہنے ہی نہیں دے گی۔ یا تو وہ اپنے سورج میں جا گریں گے، یا پھر دُور دراز خلاء کی تاریکیوں میں فرار ہوجائیں گے۔ اسی طرح ایٹموں میں الیکٹرونوں کے مدار بھی قیام پذیر نہیں ہوں گے؛ تو مادّہ — جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں — موجود ہی نہیں رہے گا۔ لہٰذا، معلوم ہوا کہ اگرچہ کائنات کی کثیر تواریخ والے تصور میں ’’سپاٹ جہتوں‘‘ (flat dimensions) کی تعداد کچھ بھی ہوسکتی ہے، لیکن صرف تین سپاٹ (مکانی) جہتوں والی تاریخوں ہی میں ذہین زندگی موجود ہوگی۔ صرف ان ہی تواریخ میں یہ سوال پوچھا جائے گا: ’’خلاء کی صرف تین جہتیں ہی کیوں ہیں؟‘‘

کائنات کی ایک اور دلچسپ خاصیت جس کا ہمیں مشاہدہ ہوتا ہے، اس کا تعلق ’’خرد موجی کائناتی پس منظر‘‘ (Cosmic Microwave Background) سے ہے — جسے آرنو پنزیاس اور رابرٹ ولسن نے دریافت کیا تھا۔ یہ دراصل اُس زمانے کے ’’رکازی ریکارڈ‘‘ (fossil record) کی مانند ہے کہ جب کائنات بالکل نوجوان تھی۔ آپ (کائنات میں) چاہے کسی بھی سمت دیکھ لیجئے، یہ پس منظر آپ کو تقریباً یکساں ہی ملے گا۔ مختلف سمتوں میں اس پس منظر میں فرق، ایک کے ایک لاکھ ویں حصے جتنا ہے۔ آخر یہ فرق اتنا معمولی سا کیوں ہے؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ وضاحت طلب ہے۔ اس بارے میں جو وضاحت عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے، وہ کچھ یوں ہے کہ کائنات اپنی بالکل ابتدائی تاریخ میں انتہائی تیز رفتار پھیلاؤ کے مرحلے سے گزری؛ جس کا پیمانہ کم از کم ایک ارب ارب ارب رہا ہوگا۔ اس عمل کو ’’افراط‘‘ (inflation) کہا جاتا ہے — ایک ایسی چیز جو ہماری معیشت کیلئے آئے دن پریشانیوں کا باعث بنتی رہتی ہے، وہی چیز (افراط)، ہماری کائنات کیلئے بہت مفید ثابت ہوئی۔ چلئے! مان لیا کہ کائنات میں ناقابلِ یقین تیز رفتاری سے پھیلاؤ کا مرحلہ، افراط کا مرحلہ موجود تھا، تو پھر کائناتی پس منظر کی خرد موجی شعاعوں (مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ ریڈی ایشن) کو ہر طرف مکمل طور پر یکساں ہونا چاہئے تھا — ان میں کسی قسم کا کوئی اُتار چڑھاؤ نہیں ہونا چاہئے تھا، چاہے وہ ایک کے ایک لاکھ ویں حصے جتنا معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ تو پھر اس میں یہ نہایت معمولی قسم کے اُتار چڑھاؤ کہاں سے آئے؟

[عرضِ مترجم: ہوسکتا ہے کہ قارئین کو یہ سب کچھ بال کی کھال نکالنے کی طرح محسوس ہورہا ہو، لیکن سائنس کا حسن یہی ہے کہ ہر چیز کو اس کی انتہائی باریکی میں جا کر کھنگالا جائے تاکہ ہم بڑے سوالوں کے بہتر اور معقول جوابات تک پہنچ سکیں۔]

میں نے 1982ء کی ابتداء میں ایک تحقیقی مقالہ لکھا، جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ کائناتی خرد موجی پس منظر میں یہ فرق — دراصل — افراطی زمانے (inflationary period) کے دوران کوانٹم اُتار چڑھاؤ (quantum fluctuations) کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ یہ کوانٹم اُتار چڑھاؤ، اصولِ عدم یقین کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مزید برأں، یہ اُتار چڑھاؤ ہی دراصل کائنات میں مختلف ساختوں (کے وجود میں آنے) کیلئے بیجوں کی مانند تھے؛ چاہے وہ کہکشائیں ہوں، ستارے ہوں یا ہم خود ہوں۔ یہ تصور بنیادی طور پر وہی میکانیکی عمل — وہی مکینزم (mechanism) — ہے جس کے تحت کسی بلیک ہول کے واقعاتی اُفق (event horizon) سے ’’ہاکنگ ریڈی ایشن‘‘ کہلانے والی شعاعیں خارج ہوتی ہیں؛ جن کی پیش گوئی میں (اس سے) دس سال پہلے کرچکا تھا۔ البتہ، کائنات کے معاملے میں یہ شعاعیں ’’کائناتی اُفق‘‘ سے آرہی تھیں؛ یعنی اُس سطرح سے کہ جو ہماری کائنات کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے — ایک وہ کہ جسے ہم دیکھ سکتے ہیں، یعنی قابلِ مشاہدہ کائنات، اور دوسرا حصہ وہ جسے ہم نہیں دیکھ سکتے، یعنی ناقابلِ مشاہدہ کائنات۔ اُس سال موسمِ گرما میں ہم نے کیمبرج میں ایک ورکشاپ منعقد کی، جس میں اس میدان (کونیات) کے تمام نمایاں ماہرین شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں ہم نے کائناتی افراط کے بارے میں اپنی موجودہ تصویر کا بیشتر حصہ متعین کیا، جس میں اہم ترین ’’کثافتی اُتار چڑھاؤ‘‘ (density fluctuations) بھی شامل تھے — جو کہکشاؤں کی تخلیق سے لے کر خود ہمارے وجود میں آنے تک کیلئے ضروری ہیں۔ حتمی جواب حاصل کرنے کیلئے متعدد لوگوں نے کام کیا۔ یہ تب سے دس سال پہلے کا واقعہ ہے کہ جب ’’کوبے‘‘ (COBE) یعنی ’’کوسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر‘‘ نامی سیارچے نے کائناتی خرد موجی پس منظر میں اُتار چڑھاؤ دریافت کئے؛ یعنی نظریہ، تجربے سے بہت پہلے سامنے آچکا تھا۔

مزید دس سال بعد تک، 2003ء میں، کونیات ایک بہت ہی نپی تلی اور انتہائی درستی کی حامل سائنس (precision science) بن چکی تھی — کیونکہ اس سال ڈبلیو میپ (WMAP) یعنی ’’ولکسنسن مائیکروویو اینائسوٹروپی سٹیلائٹ‘‘ سے حاصل کئے گئے اوّلین نتائج سامنے آئے۔ ڈبلیو میپ نے کائناتی خرد موجوں (کوسمک مائیکروویوز) سے بھرے آسمان کے درجہ حرارت (ٹمپریچر) کا خوبصورت نقشہ تیار کیا — یعنی اس موقعے کی ایک جھلک کہ جب کائنات آج کے مقابلے میں تقریباً سو گنا کم عمر (لگ بھگ چودہ کروڑ سال کی) تھی۔ اس (نقشے میں) جو اُتار چڑھاؤ ہمیں دکھائی دیئے، وہ ویسے ہی تھے کہ جیسی افراط والے کائناتی تصور میں پیش گوئی کی گئی تھی؛ اور اس کا مطلب یہ تھا کہ (ابتداء میں) کائنات کے کچھ علاقوں کی کثافت (density)، دوسرے علاقوں کے مقابلے میں معمولی سی زیادہ تھی۔ تھوڑی سی زیادہ کثافت والے علاقوں کی اضافی کششِ ثقل نے اُن میں پھیلاؤ کی رفتار قدرے کم کردی، اور بالآخر انہیں منہدم (collapse) ہونے پر مجبور کرتے ہوئے، کہکشائیں اور ستارے تخلیق کئے۔ ہم بالکل ابتدائی کائنات میں رونما ہونے والے کوانٹم اتار چڑھاؤ کی پیداوار ہیں — خدا واقعی میں پانسے کھیلتا ہے!

کچھ سال بعد ڈبلیو میپ کی جگہ ’’پلانک‘‘ (Planck) سیارچے نے لے لی اور کائنات کا اس سے بھی زیادہ تفصیلی — اس سے بھی زیادہ ریزولیوشن (resolution) کا حامل — نقشہ تیار کیا۔ پلانک سیارچہ ہمارے نظریات کو بڑی توجہ اور تفصیل کے ساتھ جانچ رہا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ وہ اُن ثقلی لہروں (gravitational waves) کو بھی دریافت کرلے جن کی پیش گوئی کائناتی افراط میں کی گئی ہے۔ (اگر ایسا ہوگیا تو یہی) وہ کوانٹم ثقل ہوگی جو پورے آسمان پر پھیلی ہوگی۔

دوسری کائناتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ ایم تھیوری کے مطابق، عدم (nothing) سے بہت ساری کائناتیں تخلیق ہوئی ہوں گی، جو بہت سی دیگر ممکنہ تواریخ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کائنات کی بھی کئی تواریخ ہیں اور بہت ساری ممکنہ حالتیں ہیں کہ جن سے وہ اپنی عمر کے مختلف حصوں میں — ماضی سے حال اور پھر مستقبل تک — گزری ہوں گی۔ البتہ، ان میں سے بیشتر حالتیں اُس کائنات سے بالکل مختلف ہوں گی کہ جس کا مشاہدہ ہم کررہے ہیں۔

پھر اس بات کی اُمید بھی ہے کہ شاید ہمیں ’’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘‘ (ایل ایچ سی) کی بدولت، ایم تھیوری کے حق میں اوّلین شہادتیں مل جائیں۔ یہ ذراتی اسراع گر (particle accelerator) ’’سرن‘‘ جنیوا میں نصب ہے۔ سرن (CERN) دراصل ’’ذرّاتی طبیعیات کے یورپی مرکز‘‘ کا مختصر اور مشہور نام ہے۔ ایم تھیوری کے نقطۂ نگاہ سے، یہ صرف کم تر (low) توانائیوں ہی پر کھوج کرے گا، لیکن ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ ہمیں کسی بنیادی نظریئے — مثلاً سپر سمٹری — کے کمزور سگنل مل جائیں۔ میرا خیال ہے کہ معلومہ (بنیادی) ذرّات کے سپر سمٹرک (supersymmetric) ساتھیوں کی دریافت، کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ کو ایک انقلاب سے ہمکنار کرے گی۔

2012ء میں لارج ہیڈرون کولائیڈر، سرن (جنیوا) سے ’’ہگز‘‘ (Higgs) ذرّے کی دریافت کا اعلان کیا گیا۔ یہ اکیسویں صدی میں کسی بنیادی ذرّے کی سب سے پہلی دریافت تھی۔ اسی لئے یہ امید باقی ہے کہ ایل ایچ سی، شاید، سپر سمٹری بھی دریافت کرلے۔ لیکن اگر ایل ایچ سی سے کسی نئے بنیادی ذرّے کی دریافت نہیں بھی ہوتی، تب بھی اگلی نسل کے ذرّاتی اسراع گروں سے سپر سمٹری دریافت ہوجانے کی اُمید باقی ہے۔ فی الحال اِن ذرّاتی اسراع گروں کی منصوبہ بندی جاری ہے۔

ایک گرم بگ بینگ سے کائنات کی ابتداء، بجائے خود ’’اعلیٰ توانائی‘‘ (high-energy) کی ایک ایسی تجربہ گاہ کی مانند ہے کہ جہاں ایم تھیوری کو — اور زمان و مکان اور مادّے کی تشکیل کرنے والی بنیادی ’’اینٹوں‘‘ سے متعلق ہمارے تصورات کو بھی — جانچا جاسکتا ہے۔ مختلف نظریات، کائنات کی موجودہ ساخت میں اپنی جداگانہ نشانیاں چھوڑتے ہیں؛ لہٰذا، فلکی طبیعیاتی (astrophysical) ڈیٹا ہمیں کائنات کی تمام قوتوں کو یکجا کرنے کے ضمن میں اہم سراغ فراہم کرسکتا ہے۔ دوسری کائناتیں بھی ہوسکتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم انہیں کبھی کھوج نہیں پائیں گے۔

اب تک ہم نے کائنات کی ابتداء کے بارے میں کچھ باتیں دیکھ لی ہیں۔ لیکن اب بھی دو بڑے سوالات ہمارے سامنے ہیں: کیا کائنات ختم ہوجائے گی؟ کیا ہماری کائنات واقعی منفرد ہے؟

ایسی صورت میں کائنات کی سب سے زیادہ ممکنہ تواریخ کا طرزِ عمل، مستقبل میں، کیسا ہوگا؟ اس کے بھی بظاہر متعدد امکانات ہیں، جو ذہین مخلوق کے ظہور سے مناسبت رکھتے ہیں۔ ان کا انحصار، کائنات میں مادّے کی مقدار پر ہے۔ اگر (کائنات میں) مادّے کی مقدار ایک خاص حد (critical amount) سے زیادہ ہوئی، تو کہکشاؤں کے درمیان کششِ ثقل، پھیلاؤ کو سست کردے گی۔

End of the Universe Options

(پھیلاؤ سست پڑتے پڑتے) آخرکار وہ پلٹیں گی اور ایک دوسرے کے قریب آنے لگیں گی — یہاں تک کہ سب کی سب ایک بار پھر ’’عظیم چٹاخے‘‘ (Big Crunch) کی صورت میں، ایک ساتھ جمع ہوجائیں گی۔ یہ حقیقی وقت میں کائنات کی تاریخ کا اختتام ہوگا۔ جب میں مشرقِ بعید میں تھا، تو مجھ سے کہا گیا کہ ’’بگ کرنچ‘‘ کا لفظ استعمال نہ کروں، کیونکہ اس کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر پڑسکتا ہے۔ لیکن اسٹاک مارکیٹیں، بہرحال، کریش کرگئیں — لگتا ہے یہ کہانی کسی طرح باہر پھیل گئی تھی۔ البتہ، برطانیہ والوں کو آج سے لگ بھگ بیس ارب سال بعد، مستقبل میں، ہونے والے اس ممکنہ اختتام کی بظاہر کوئی فکر نہیں۔ تب تک آپ خوب کھا پی سکتے ہیں، اور مزے سے رہ سکتے ہیں۔

(لیکن) اگر کائنات کی کثافت اس خاص حد سے کم ہوئی، تو کششِ ثقل اتنی کمزور رہ جائے گی کہ ایک دوسرے سے دور ہوتی ہوئی کہکشاؤں کو روک نہیں پائے گی؛ اور (کہکشاؤں کے درمیان) فاصلے بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ سارے ستارے جل کر ختم ہوجائیں گے؛ اور کائنات خالی سے خالی، سرد سے سرد ہوتی جائے گی۔ تب، ایک بار پھر، اس کا اختتام ہی ہوگا — مگر وہ (بگ کرنچ کے مقابلے میں) بہت کم ڈرامائی، بہت کم سنسنی خیز ہوگا۔ اس صورت میں بھی ہمارے پاس کئی ارب سال ہیں۔

میں نے اس جواب میں کوشش کی ہے کہ کائنات کی ابتداء، مستقبل اور نوعیت کے بارے میں کچھ باتیں آپ کو بتاؤں۔ ماضی میں کائنات بہت ہی چھوٹی اور بہت زیادہ کثیف (dense) تھی؛ یعنی یہ کسی اخروٹ کے چھلکے کی طرح تھی، جس سے میں نے اپنی بات شروع کی۔ لیکن یہی وہ اخروٹ تھا جس میں وہ سب کچھ پوشیدہ تھا کہ جو حقیقی وقت میں — اصلی وقت میں — وقوع پذیر ہوا۔ تو اس اعتبار سے ہیملٹ بالکل درست تھا۔ ہم ایک چھوٹے سے خول میں بند ضرور ہوسکتے ہیں، لیکن پھر بھی خود کو لامحدود خلاء کا بادشاہ قرار دے سکتے ہیں۔

بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

غیر حدی تجویز (no-boundary proposal) کے مطابق، یہ پوچھنا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا، بالکل بے معنی ہے — کیونکہ یہ قطب جنوبی پر کھڑے ہو کر قطب جنوبی کا پتا پوچھنے کے مترادف ہے — کیونکہ بگ بینگ سے پہلے وقت کا کوئی وجود ہی نہیں کہ جس کا حوالہ دیا جائے۔ وقت کا تصور صرف ہماری کائنات کے اندر ہی وجود رکھتا ہے۔