مسلم دنیا میں سائنس کی روح خوابیدہ ہے، مسلم ماہرین

مسلم دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری دراصل اس پستی کا اہم سبب ہے

(کراچی) مسلم دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی روح خوابیدہ ہے، سائنسی ترقی میں مسلم ممالک دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری دراصل اس پستی کا اہم سبب ہے۔ ان خیالات کا اظہار عراق، لبنان، مصر، آذربائیجان، فلسطین، ملائیشیا اور پاکستانی ماہرین نے بدھ کے روز بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں ایک مقامی میڈیا گروپ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ یہ ماہرین بین الاقوامی مرکز کے تحت ’’نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری‘‘ کے موضوع پر جاری، چار روزہ، 14ویں بین الاقوامی سمپوزیم میں شریک ہیں۔ اس بین الاقوامی سمپوزیم میں 600 ملکی و غیر ملکی سائنسدان اور محققین شرکت کررہے ہیں۔

آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نہ صرف ناکافی سرمایہ کاری بلکہ سیاسی عدم آمادگی، سیاسی خلفشار اور مسلم اُمہ کے اتحاد کی مخدوش صورتِ حال دراصل مسلم دنیا کی سائنس کے شعبے میں پسماندگی کے اہم اسباب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان سائنسدانوں کو چاہئے کہ وہ خود اپنا ایک پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ ایک دوسرے کی مدد ہوسکے۔ ان کی رائے میں بدعنوانی، سیاسی عدم آمادگی اور سیاسی خلفشار پاکستان میں تمام تر پسماندگی کا سبب ہیں۔

’’مسلمان سائنسدانوں کو چاہئے کہ وہ خود اپنا ایک پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ ایک دوسرے کی مدد ہوسکے… بدعنوانی، سیاسی عدم آمادگی اور سیاسی خلفشار پاکستان میں تمام تر پسماندگی کا سبب ہیں۔‘‘

ڈاکٹر اقبال چوہدری، سربراہ آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی

لبنانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر منّان نے کہا سرمائے اور تحقیق کی کمی، لبنان کے اہم مسائل ہیں۔ ڈاکٹر رامی محدوح عارفین نے کہا کہ فلسطین میں جامعات صرف تدریس تک محدود ہیں جس کی وجہ فنڈز کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔ ڈاکٹر نوہاد اے الاماری نے کہا کہ عراقی عوام بہت باصلاحیت ہیں مگر ملک میں سائنسدانوں کیلئے کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں۔ ملائیشیا سے آئے ہوئے ڈاکٹر رحیم جناتن نے زور دیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کو مسلم دنیا کی رہنمائی کرنی چاہئے۔

ICCBS Logo
جامعہ کراچی میں بین الاقوامی مرکز برائے حیاتی و کیمیائی علوم (آئی سی سی بی ایس) گزشتہ تین عشروں سے نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری پر یہ دو سالہ کانفرنس منعقد کروارہا ہے۔ (تصویر بشکریہ آئی سی سی بی ایس)

آذربائیجان سے ڈاکٹر ایلڈر اے گاریو اور خاتون ماہر ڈاکٹر کمالا کمال نے کہا کہ آذربائیجان میں سائنسی شعبے کی پسماندگی کا اہم سبب زبان سے متعلق مشکلات ہیں۔ مصری خاتون ڈاکٹر سحر مصطفیٰ نے کہا کہ مصر میں بھی سائنس کے شعبے کی صورت حال مخدوش ہے؛ وہاں پر زیادہ تر سائنسدان تحقیقی مقالہ جات (ریسرچ پیپرز) تحریر کرنے یا عہدوں کے حصول کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔

14ویں بین الاقوامی سمپوزیم کے تیسرے روز برطانوی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر ٹام سمپسن، پروفیسر ڈاکٹر مائیکل تھریڈ گل اور فرانسیسی ماہر پروفیسر ڈاکٹر ڈرونو فیگادرے سمیت دیگر ملکی و غیر ملکی سائنسدانوں نے بھی اپنے مقالہ جات پڑھے۔