سائنس سے عالمی انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے

بین الاقومی مرکز جامعہ کراچی منعقدہ عالمی سمپوزیم سے ملکی و غیرملکی سائنسدانوں کاخطاب

(کراچی) نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم کے آخری روز غیرملکی و ملکی سائنسدان شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ دنیا میں سائنسی ثقافت کو فروغ دینے سے عالمی انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے۔ کینسر، ایڈز، ملیریا اور دیگر امراض کے خلاف نئی ادویہ کی تیاری میں نباتات اہم ذریعہ ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج (جمعرات کو) بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے موضوع پر چار روزہ 14ویں بین الاقوامی سمپوزیم کی اختتامی تقریب میں کیا۔

مزید پڑھئے: مسلم دنیا میں سائنس کی روح خوابیدہ ہے، ماہرین

تقریب سے بلجیم کے پروفیسر ڈاکٹر ایلن کریف، برطانوی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر ٹام سمپسن، پروفیسر ڈاکٹر مائیکل تھریڈ گل، لبنانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر منّان، فلسطین کے ڈاکٹر رامی محدوح عارفین، عراقی خاتون ڈاکٹر نوہاد اے الاماری، ملائیشیا کے ڈاکٹر رحیم جناتن، آذربائیجان کی ماہر ڈاکٹر کمالا کمال، بنگلہ دیشی ڈاکٹرجمال الدین احمد، ترکی کی خاتون ڈاکٹر بلگی سینر اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے خطاب کیا۔

اس بین الاقوامی سمپوزیم میں 40 ممالک کے 600 سائنسدانوں اور محققین نے شرکت کی جبکہ ملکی و غیرملکی سائنسدانوں نے نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے موضوع پر متعدد لیکچرز دیئے۔ بین الاقوامی مرکز اور مختلف ممالک کے تحقیقی اداروں کے درمیان تحقیقی معاہدے بھی طے پائے جبکہ بین الاقوامی سائنسدانوں نے بین الاقوامی مرکز میں بطور اُستاد خدمات انجام دینے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ سائنس اقوام کے درمیان خلیج کم کرتی ہے، بالخصوص مسلم دنیا میں سائنسی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ادویاتی نباتات کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ امراض کے خلاف نئی ادویہ کی تیاری میں یہ نباتات اہم ذریعہ ہیں۔ پروفیسرایلن کریف نے کہا کہ نیچرل پروڈکٹ کیمسٹری کے شعبے میں مزید ترقی درکار ہے جبکہ ادویاتی نباتات پر مطلوبہ تحقیق امراض کے تدارک میں مددگار ثابت ہوگی۔ برطانوں سائنسدانوں نے بین الاقوامی مرکز کی تعمیر و ترقی میں پروفیسر عطاالرحمان اور پروفیسر اقبال چوہدری کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پروفیسر اقبال چوہدری کو بین الاقوامی سمپوزیم کے شاندارانعقاد پر مبارکباد پیش کی۔

ڈاکٹر رحیم جناتن نے کہا کہ پاکستانی بڑے مہمان نواز اور محبت کرنے والے ہیں۔ عراقی خاتون سائنسدان نے کہا کہ نیچرل پروڈکٹ کمیسٹری کو تیسری دینا میں مزید توجہ اور معاونت درکار ہے۔ غیرملکی سائنسدانوں کی رائے تھی کہ پاکستان میں اتنی بڑی اور منظم سائنسی کانفرنس کا انعقاد، پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔

تقریب کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے سمپوزیم کے شرکاء اور پوسٹر مقابلے میں نمایاں نمبر لینے والے محققین میں اسناد بھی تقسیم کیں۔