کوئی دیکھے نہ دیکھے ’’وائی فائی‘‘ تو دیکھے گا!

وائی فائی استعمال کرتے ہوئے دیواروں کے آرپار دیکھنے کی ایک نئی اور بہتر تدبیر

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا باربرا کے یانزی ژُو اور ان کے ساتھیوں نے وائی فائی سگنلوں کی مدد سے دیوار کے پیچھے موجود افراد کو ’’دیکھنے‘‘ کی ایک انوکھی تدبیر دریافت کی ہے۔ یہ طریقہ بظاہر اتنا آسان اور کم خرچ ہے کہ اسے قابلِ عمل بنانے کیلئے ہر طرف پھیلے ہوئے وائی فائی سگنلوں کے علاوہ صرف ایک عدد عام اسمارٹ فون کی ضرورت پڑے گی۔

وائی فائی ریڈیو سگنلز کی فریکوئنسی 2.4 گیگا ہرٹز سے 5 گیگا ہرٹز تک ہوتی ہے؛ اور یہ دیواروں سے آرپار بھی گزر جاتے ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ وائی فائی کی مدد سے دیوار کے آرپار جھانکا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ضرور ہے لیکن یہ کام کوئی آسان نہیں۔ اب تک جتنے بھی طریقے سامنے آئے ہیں، اُن سب میں ایک طرف نہایت حساس اور مہنگے آلات استعمال کئے گئے ہیں تو دوسری جانب ان کا انحصار وائی فائی راؤٹر سے خارج ہونے والے سگنلوں کی شدت (intensity) پر ہے… یعنی سگنل کمزور ہونے کی صورت میں یہ تکنیکیں کام نہیں کریں گی؛ اور اگر کریں گی بھی تو بہت ناقص۔

یانزی ژُو اور ان کے ساتھیوں نے اس مسئلے کا کم خرچ حل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وائی فائی راؤٹر کے سگنلوں کی شدت کے بجائے ماحول میں ہر طرف پھیلی ہوئی (ambient) وائی فائی لہروں کو بنیاد بنایا جائے – اور اس ’’وائی فائی منظر‘‘ میں آنے والے اُتار چڑھاؤ پر توجہ دی جائے – تو ہم بہتر طور پر دیوار کے آرپار دیکھ سکیں گے اور دوسری طرف ہونے والی حرکات پر نظر رکھ سکیں گے۔

چلئے، اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

فرض کیجئے کہ قدرت نے آپ کو ایسی آنکھیں عطا کی ہیں جو عام، مرئی (visible) روشنی کے بجائے وائی فائی لہروں (ریڈیو سگنلوں) کی مدد سے دیکھ سکتی ہیں۔ تو پھر آپ کیا دیکھیں گے؟ وائی فائی لہریں دیواروں اور انسانی جسموں سے گزرتی چلی جاتی ہیں – جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ لہٰذا اگر کہیں پر وائی فائی راؤٹر نصب ہو تو آپ کو اس راؤٹر کی جگہ صرف ایک تیز روشنی دکھائی دے گی جو چاروں طرف پھیلتے ہوئے بتدریج مدھم ہوتی جائے گی… اور بس!

اگر وائی فائی راؤٹر کے سگنلوں کی شدت کے بجائے ماحول میں ہر طرف پھیلی ہوئی (ambient) وائی فائی لہروں کو بنیاد بنایا جائے تو ہم بہتر طور پر دیوار کے آرپار دیکھ سکیں گے اور دوسری طرف ہونے والی حرکات پر نظر رکھ سکیں گے۔

اس ’’وائی فائی روشنی‘‘ میں اس کے سوا آپ کچھ نہیں دیکھ سکیں گے: نہ دیواریں، نہ میزیں، نہ کرسیاں، اور نہ ہی افراد۔ البتہ، اگر اس ماحول میں موجود کوئی چیز (بشمول انسان) حرکت کررہی ہو تو وہ اس ’’وائی فائی منظر‘‘ کو متاثر کرتے ہوئے اسے تھوڑا سا مسخ (distort) کرے گی – یعنی اس میں اُتار چڑھاؤ (fluctuations) کو جنم دے گی۔ حرکت کے باعث پیدا ہونے والے، اسی اُتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے یا نہیں۔

اصولی طور پر تو یہ طریقہ بہت پرکشش ہے لیکن ابھی یہ ابتدائی مرحلے پر ہے کیونکہ سے کے ذریعے کسی وائی فائی منظر ہونے والے صرف اسی اُتار چڑھاؤ کو ’’دیکھا‘‘ جاسکتا ہے جو کسی بڑی چیز میں اچھی خاصی حرکت کے نتیجے میں آیا ہو۔ البتہ، اس ٹیکنالوجی کو زیادہ حساس اور مزید بہتر بنا کر چھوٹی چیزوں میں معمولی سی حرکت سے پیدا ہونے والے وائی فائی اُتار چڑھاؤ کی مدد سے عکس نگاری کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم، اس بارے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسا کب تک ہوگا۔

یانزی ژو اور ان کے ساتھیوں کی مذکورہ تحقیق ’’آرکائیو ڈاٹ آرگ‘‘ (arXiv.org) پر آن لائن شائع ہوچکی ہے جسے پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔