دو سو واں شمارہ… بے چارہ

شمارہ اگست 2014ء کا اداریہ... ایک سنگِ میل کی یادگار

ماشاء اللہ، الحمدللہ۔ آخرکار گلوبل سائنس کا ’’دو سو واں شمارہ‘‘ شائع ہونے کیلئے تیار ہے۔ دو سو مہینوں (یعنی سولہ سال اور آٹھ مہینوں) پر محیط یہ سفر کیسا رہا؟ ہمیں تو اس سے کہیں زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ آخر ’’گلوبل سائنس‘‘ اتنے عرصے تک زندہ کیسے رہ گیا؟ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک، وطنِ عزیز سے شائع ہونے والے اردو سائنسی جرائد کی تاریخ دیکھی جائے، تو معلوم ہوگا کہ اب تک سرکاری اداروں یا غیر سرکاری تنظیموں نے عامۃ الناس کیلئے کوئی ’’سائنسی‘‘ ماہنامہ شائع کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔ ستمبر 1970ء میں ’’ماہنامہ عملی سائنس‘‘ سے لے کر آج تک، ماہانہ بنیادوں پر جتنے بھی سائنسی جرائد شائع ہوتے رہے ہیں (بلکہ اب بھی ہورہے ہیں) وہ تمام کے تمام نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) سے وابستہ افراد کی ذاتی خواہشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہی رہے ہیں۔ پاکستان سے شائع ہونے والے بیشتر سائنسی جرائد اپنے سو (100) شمارہ جات بھی پابندئ اشاعت کے ساتھ پورے نہیں کرپائے ہیں۔ ’’گلوبل سائنس‘‘ پر بھی یہ اعتراض موجود ہے کہ یہ شمارہ، مہینے کی آخری تاریخوں میں شائع ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے دو سو مہینوں میں اپنے دو سو شمارے پورے کرلئے ہیں۔ الحمدللہ۔

اس اعتبار سے یہ شمارہ جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے، بلاشبہ پاکستان کی سائنسی صحافت میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ البتہ، کسی بھی دوسرے انسان کی طرح ہمیں بھی تکبر زیب نہیں دیتا۔ مخلوق کو مخلوق ہی رہنا چاہئے، خدائی دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔

ساڑھے سولہ سال اور دو مہینے کے اس اشاعتی سفر کے دوران ’’شاید‘‘ ہم نے کچھ بہتر، کچھ مثبت کام کیا۔ یہاں ’’شاید‘‘ لکھنے پر ہم مجبور ہیں۔ کیونکہ ہمیں آج تک درست طور پر معلوم نہیں کہ کیا اس رسالے کی بدولت معاشرے پر کچھ مثبت اور بہتر اثرات مرتب ہوئے بھی یا نہیں۔ قارئین کی فرمائشوں، خواہشوں اور شکایتوں کے انبار کے سامنے ہماری کوششیں بہت ہی کم ۔۔ بلکہ نہ ہونے کے برابر ۔۔ رہی ہیں۔ اس پوری مدت میں گلوبل سائنس کے پلیٹ فارم سے کئی افراد نے سائنس کے بارے میں لکھنا سیکھا۔ ان میں سے بعض تو ’’صاحبانِ کتاب‘‘ تک بن گئے۔ لیکن ایک خاص وقت گزرنے کے بعد اگلی منزلوں کی طرف بڑھ گئے۔ ہمیں ان میں سے کسی سے بھی شکایت نہیں۔ ہر انسان کو اپنی زندگی اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور ضروریات کے پیش نظر گزارنے کا پورا حق ہے… سو انہیں بھی ہے۔

یادش بخیر! جس دن گلوبل سائنس کا پہلا شمارہ شائع ہوا تھا، تو راقم (علیم احمد) کی عمر صرف چھبیس سال اور پانچ مہینے تھی۔ خیر سے اب یہ عمر، تینتالیس سال کا ہندسہ عبور کرچکی ہے۔ اس دوران نہ صرف ہماری اپنی سوچ اور خیالات میں تبدیلی آئی، بلکہ کم و بیش دو نسلیں بھی تبدیل ہوگئیں۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر تبدیلیاں ہمیں پسند نہیں آئیں، لیکن پھر بھی ہم نے ان تبدیلیوں سے سمجھوتا کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھا… اور اب بھی جاری رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بس اپنے نئے اور پرانے، تمام قارئین سے ایک گزارش ضرور کرنا چاہیں گے: انسان ہونے کی حیثیت سے ہم بھی غلطیاں کرسکتے ہیں (بلکہ ’’فاش‘‘ غلطیاں بھی ہم سے سرزد ہوسکتی ہیں)۔ لیکن ہم بدنیت ہرگز نہیں۔ امداد کی مد میں حکومت یا کسی غیر سرکاری ادارے سے ہم نے آج تک ایک دھیلا بھی نہیں لیا؛ اور ان شاء اللہ، آئندہ بھی ایسا نہیں کریں گے۔ رزق کم ہو یا زیادہ، لازم ہے کہ حلال اور جائز ذرائع سے کمایا گیا ہو۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آئندہ بھی رزقِ حلال کمانے کی توفیق دے؛ اور اس رسالے ہی کے کام میں اتنی برکت ڈال دے کہ درجنوں افراد کا روزگار اس سے وابستہ ہوسکے (آمین)۔

ہماری شدید خواہش تھی کہ گلوبل سائنس کے دو سوویں شمارے کو انتہائی یادگار اور بہت ضخیم بنایا جائے۔ لیکن بے چارہ… دو سو واں شمارہ، معمول کے صفحات ہی پر محیط ہے۔ اس وقت بھی ہم ’’خاص الخاص شمارے‘‘ کیلئے کوئی وعدہ نہیں کرسکتے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ رسالہ مزید کتنے مہینے زندہ رہے گا… لیکن یہ کیفیت اتنی مرتبہ آچکی ہے کہ اب ہم نے بھی ’’ہورہے گا کچھ نہ کچھ! گھبرائیں کیا‘‘ والا مزاج اپنالیا ہے۔ البتہ، ہم اپنی ’’فکری کھرک‘‘ مٹانے سے باز نہیں آسکتے۔ اس وقت بھی جبکہ ہم یہ اداریہ تحریر کررہے ہیں، گلوبل سائنس کی ادارتی پالیسی میں کچھ اور تبدیلیاں لانے، کچھ نئے تجربات کرنے کی نیت ہے۔ ان شاء اللہ، آپ بہت جلد اس قطرے کو گہر ہوتا دیکھ لیں گے۔ ہاں! افرادی قوت کا بحران (جو ہمیشہ سے پاکستانی سائنسی جرائد کا نصیب رہا ہے) دور کرنے کیلئے ہمیں نئے اور ’’اچھا لکھنے والوں‘‘ کی اشد ضرورت ہے… ایسے افراد کی جو اردو میں سائنسی مضامین لکھ کر ’’احسان‘‘ نہ کریں بلکہ اپنی ان کاوشوں کے ذریعے ’’اُردو کی خدمت‘‘ کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔

اِدھر اُدھر کی ہانکنے اور ’’اکیوٹ ڈپریشن‘‘ کے باعث توجہ مرکوز نہ کرسکنے پر اپنے قارئین سے دست بستہ معذرت کے ساتھ۔

آپ کا۔علیم احمد