پولیو ویکسین اب سفوف کی صورت میں تیار

نئی پیش رفت کی بدولت پولیو ویکسین کو ہفتوں تک خصوصی انتظام کے بغیر محفوظ رکھا جاسکے گا

اگرچہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن پاکستان سمیت چند ممالک میں اب بھی پولیو وائرس اپنی تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے۔ اس ضمن میں پولیو ویکسین کو دور دراز علاقوں تک بھیجنے کیلئے کولڈ چین یا مسلسل ٹھنڈک فراہم کرنا ہوتی ہے ورنہ ویکسین خراب ہو کر ناکارہ ہوجاتی ہے۔

اب ماہرین نے ایسی منجمد پولیو ویکسین تیارکرلی ہے جس کیلئے فریج اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ اسے کمرے کے عام درجہ حرارت پر بھی مؤثر رکھا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر جائی جونگ نے پولیو کے قطروں پر طویل تحقیق، مائع کروماٹوگرافی اور اسکریننگ کے بعد اس کے اہم اجزاء کا پتا لگایا ہے اور ویکسین کی سفوف والی قسم تیار کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسے منجمد کرکے پاؤڈر میں بدلا ہے۔ ضرورت کے وقت اس سفوف میں پانی ملاکر قطروں کی صورت میں بچوں کا پلایا جاسکتا ہے جبکہ اس طرح ویکسین کے معیار پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگلے مرحلے میں ماہرین نے ویکسین کو چار ہفتوں تک فریج کے بغیر رکھا؛ اور جب اسے چوہوں پر آزمایا گیا تو وہ پولیو سے 100 فیصد تک محفوظ رہے۔ آئندہ مراحل میں اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر قابلِ عمل بنایا جائے گا۔ اس تحقیق کے بعد خشک ویکسین بنانے میں مدد ملے گی جسے سردی یا گرمی میں دور دراز علاقوں میں کسی فریج کے بغیر لے جانا ممکن ہوگا۔

اس اختراع کی تفصیل تحقیقی جریدے ’’جرنل ایم بایو‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ مقالے کے پہلے مصنف ڈاکٹر وو جِن شِن کہتے ہیں، ’’دنیا کی حیرت انگیز دوا ہو یا ویکسین، اگر (دوردراز) علاقوں تک اس کی ترسیل ممکن نہ ہو تو اس سے کوئی بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے۔‘‘