اکتالیس سالہ رفاقت اختتام کے قریب

اکتالیس سال پہلے 5ستمبر1977کو وائجر ون نے زمین کو خیر باد کہا اور اپنے سفر کا آغاز کیا۔  مشن دو حصوں میں تقسیم تھا، مشن کے پہلے حصے میں وائجر ون کو مشتری(Jupiter) اور زحل (Saturn)کے ساتھ ساتھ زحل کے چاند ٹائٹن کا تفصیلی جائزہ اور تصاویر لینی تھی۔ اس کے بعد وائجر ون نے یورینس اور نیپچون وغیرہ کا مشاہدہ کرنا تھا۔ مشن کے دوسرے حصے کے مطابق وائجر ون کو نظام شمسی کے باہر تک سفر کرنا تھا۔

وائجر ون اس وقت نظام شمسی کو چھوڑ کر انجانی راہوں پر گامزن ہے۔ اس وقت وائجر ون ہم سے 19 بلین کلو میٹر دور ہے۔کتنی دوری ہے یہ؟ مریخ پر جو پروبز  ہیں انہیں زمین تک سگنل بھیجنے میں 20 منٹ لگتے ہیں، حال ہی میں نیو ہورائزن جو الٹیما تھیولی کے قریب سے گذرا اُس کو زمین پر ڈیٹا بھیجنے میں 6گھنٹے لگ جاتے ہیں جبکہ وائجر ون ہم سے اتنا دور ہے کہ اُس کو زمین پر سگنل بھیجنے میں 20گھنٹے لگ جاتے ہیں۔  یہ انسانی ہاتھوں کی بنائی ہوئی واحد چیز ہے جو اتنی دور ی تک سفر کر سکی ہے۔ وائجر ون 61,000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور مسلسل ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اتنی زیادہ رفتار وائجر ون نے جیوپٹر کی طاقتور گرویویٹی سے حاصل کی۔

جیسے جیسے وائجر ون ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے ڈیٹا ٹرانسمشن سپیڈ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت ڈیٹا سپیڈ تقریبا 160بٹ فی سیکنڈ ہے۔ جی ہاں صرف 160بٹ فی سیکنڈ۔ ذرا حساب لگائیں کہ  ایک ایم بی ڈیٹا کتنے وقت میں ملتا ہو گا؟

زمین  گھوم رہی ہے اور ہمیں مسلسل وائجر ون سے ڈیٹا چاہے۔ اگر ایک ارتھ اسٹیشن ہو گا تووہ  صرف آٹھ گھنٹے تک وائجر ون کے سگنلز رسیو کر پائے گا۔ اس مقصد کیلئے ناسا اپنا ڈیپ سپیس نیٹ ورک استعمال کرتا ہے جس میں تین ارتھ اسٹیشنز جو کہ  امریکہ، سپین اور آسٹریلیامیں موجود ہیں استعمال کرتا ہے اور ہر وقت کوئی ایک اسٹیشن مسلسل وائجر ون سے رابطے میں رہتا ہے۔

وائجر ون اپنے انٹینا کے ذریعے ہمیں ریڈیو سگنل بھیجتا ہے۔ یہ سگنل20واٹ کے ہوتے ہیں جب وائجر ون ان کو سینڈ کرتا ہے۔ سفر کے دوران سگنل کمزور ہوتے جاتے ہیں اور زمین تک آتے آتے یہ 0.000000000000000000722  واٹ رہ جاتے ہیں۔ اتنے کمزور سگنلز کو ریسو کرنے کیلے ہر ارتھ اسٹیشن پر70 میٹر کا ایک مین انٹینا اور کئی ایک 34میٹر کے انٹینا نصب کیئے گئے ہیں۔

1990میں وائجر ون نے اپنی آخری تصور لی تھی جس میں زمین ایک بلیو ڈاٹ کی طرح نظر آ رہی ہے۔ اس کے بعد فیول بچانے کی خاطر وائجر ون کے کیمرے کو بند کر دیا گیا تھا۔اس وقت وائجر ون کے گیارہ میں سے صرف چار سائنسی آلات چل رہے ہیں باقیوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ وائجر ون نیوکلیئر پاور سے چلتا ہے اور اب یہ پاور سورس اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اگلے چار یا زیادہ سے زیادہ چھ برس میں وائجر ون کا فیول ختم ہو جائے گا اور ہم اپنے ایک بہت ہی اچھے دوست کو ہمیشہ کیلئے کھو دیں گے۔وائجر ون اپنا سفر کروڑوں سال تک خاموشی سے جاری رکھے گا جب تک کہ یہ کسی اور سولر سسٹم میں کسی چاند، سیارے یا ستارے سے ٹکڑا نہیں جاتا مگر افسوس ہم چند سال کے بعد اس کے بارے میں لاعلم ہونگے کہ ہمارا دوست اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے۔

وائجر ون نے اپنے تمام مشنز کو با خوبی پورا کیا بلکہ اس نے انسان کو  توقعات سے بڑھ کر معلومات فراہم کی۔ آئندہ اگر انسان زمین سے نکل کر کائنات کے کسی اور گوشہ میں قدم رکھتا ہے تو اُس کی اس کامیابی کے پیچھے وائجر ون (اور وائجر ٹوبھی)کی فراہم کردہ معلومات کا بڑا ہاتھ ہو گا۔