سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی: کتنی حقیقت، کتنا فسانہ؟

اربوں سال کی ارتقائی پیش رفت کے بعد، آج سے تقریباً چالیس کروڑ سال پہلے، کچھ پودے ترقی یافتہ ہو کر ’’بیج بردار‘‘ ہوگئے۔ یعنی وہ اپنی تمام تر جینیاتی خصوصیات کے ساتھ اپنی نسل محفوظ انداز سے آگے بڑھانے کیلئے بیج بنانے لگے۔ ایک پودے سے گر کر زمین میں دب جانے والا بیج، موافق حالات میسر آنے پر ویسا ہی ایک پودا بن جاتا۔

آج سے ہزاروں سال پہلے جب انسان نے زراعت ایجاد کی تو پودوں کی یہی خاصیت اس کے بہت کام آئی۔ کسی پودے سے فصل حاصل کرنے کے بعد وہ اسی فصل کے کچھ بیج اپنے پاس بچا کر رکھ لیتا، جنہیں وہ مناسب وقت آنے پر ایک بار پھر زمین میں دبا دیا کرتا اور یوں اگلی فصل حاصل کرلیتا۔ گویا یہ ’’فصل سے بیج اور بیج سے فصل‘‘ کا ایک پورا چکر بن گیا جو آج تک بیشتر ممالک میں رائج ہے۔ زراعت کے طریقے بدل گئے، نت نئی اور مخلوط فصلیں بھی تیار کرلی گئیں، مگر اس بنیادی طریقے کو بدلنے کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔

پھر 1990ء کے عشرے میں ایک امریکی کمپنی ’’ڈیلٹا اینڈ پائن لینڈ‘‘ نے (امریکی محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر) جینیاتی انجینئرنگ استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد طریقہ وضع کیا۔ اس طریقے کی بدولت یہ ممکن ہوگیا کہ بیج سے صرف ایک بار ہی فصل حاصل ہوسکے، دوسری بار نہیں۔ اس طرح تیار ہونے والی فصل سے بیج تو حاصل ہوتے تھے لیکن وہ ’’بانجھ‘‘ (sterile) ہوتے، یعنی ان سے کوئی فصل حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔ 1998ء میں اس نئی ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی محکمہ زراعت اور ڈیلٹا اینڈ پائن لینڈ نے مشترکہ طور پر تین پیٹنٹ بھی حاصل کرلئے۔

یہ ٹیکنالوجی وضع کرتے وقت جواز پیش کیا گیا کہ اس کا مقصد جینیاتی ترمیم شدہ فصلوں (G M Crops) کے اثرات کو محدود کرنا ہے تاکہ ان پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور ان سے وابستہ خدشات کا ازالہ کیا جاسکے۔ یہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے، دیگر فصلوں کو جینیاتی ترمیم شدہ فصلوں کے اثرات سے (اگر وہ ہیں بھی تو) محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

برسبیلِ تذکرہ بتاتا چلوں کہ جینیاتی ترمیم شدہ فصلیں آج بھی عالمی زراعت میں وجہِ تنازعہ ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے نہ صرف زیادہ پیداوار دینے والی فصلیں تیار کی جاسکتی ہیں بلکہ ان فصلوں میں ایسی خصوصیات بھی پیدا کی جاسکتی ہیں جنہیں پہلے صرف سوچا ہی جاسکتا تھا۔ جینیاتی ترمیم شدہ فصلوں میں سویابین، کپاس، مکئی، چقندر، کینولا، پپیتا اور سیب وغیرہ شامل ہیں جبکہ دیگر کئی فصلیں ابھی تیاری اور منظوری کے مرحلے پر ہیں۔

خیر، کچھ سال بعد امریکہ میں بایو ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی ’’مونسانٹو‘‘ نے ڈیلٹا اینڈ پائن لینڈ کو اس ٹیکنالوجی سمیت خرید لیا… اور یوں یہ ٹیکنالوجی بھی اس کی ملکیت میں آگئی۔

آج ہم اس ٹیکنالوجی کو تکنیکی طور پر ’’جینیٹک یوز ریسٹرکشن ٹیکنالوجی‘‘ یا مختصراً ’’گرٹ‘‘ (GURT) کے نام سے جانتے ہیں۔ البتہ، عرفِ عام میں اسے ’’سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی‘‘ (بیج کی قاتل ٹیکنالوجی) کہا جاتا ہے۔

اب ذرا ’’گرٹ‘‘ کے استعمال کا ایک اور پہلو بھی دیکھ لیتے ہیں: جب کوئی نجی کمپنی ایک نئی، مزاحم اور زیادہ پیداوار دینے والی ایک بہتر فصل تیار کرتی ہے تو اس مقصد کیلئے وہ اچھی خاصی سرمایہ کاری بھی کرتی ہے۔ کمپنی بخوبی جانتی ہے کہ اگر وہ نئی فصل ایک بار کسان کے ہاتھ میں چلی گئی تو وہ اس کی پہلی فصل کے بیجوں سے فصل در فصل حاصل کرتا رہے گا اور کمپنی کو وہ منافع حاصل نہیں ہوگا کہ جس کی امید لگائے وہ بیٹھی ہے۔ گرٹ/ سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی کا استعمال، ایسی کسی بھی کمپنی کیلئے بڑی خوشخبری سے کم نہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے اطلاق سے وہ ایسے نئے بیج تیار کرسکتی ہے جن میں ساری خوبیاں تو موجود ہوں لیکن وہ صرف ایک بار ہی فصل دینے کے قابل ہوں۔ دوسری فصل اُگانے کیلئے کسان کو ایک بار پھر کمپنی سے بیج خریدنے پڑیں؛ جنہیں وہ نئے داموں پر فروخت کرسکے اور اپنی لگائی ہوئی ساری رقم، منافعے سمیت واپس حاصل کرسکے۔

یہ تو صرف کمپنیوں کی بات تھی۔ لیکن اگر معاملہ کسی ایسے ملک کا ہو جو ساری دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہو، تو پھر کیا ہوگا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ ملک مختلف طریقوں سے دوسرے ملکوں میں روایتی زراعت کو اس حد تک تباہ کردے کہ وہاں کے کسان اس ملک سے (یا اس ملک سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں سے) اپنی مطلوبہ فصلوں کے بیج خریدنے پر مجبور ہوجائیں۔ ایسے میں سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی اس اجارہ دار ملک کا پسندیدہ ’’زرعی ہتھیار‘‘ بن سکتی ہے؛ جس کی بدولت متاثرہ ملک کے کسان ہر بار اسی سے بیج خریدنے پر مجبور رہیں گے جبکہ وقت آنے پر متاثرہ ملک کی حکومت کو بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور کیا جاسکے گا۔ سرِدست یہ بات محض ایک امکان ہے لیکن اسے ’’ایں خیال اَست و محال اَست و جنوں‘‘ کہہ کر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ بیس سال کے دوران بھارت میں تین لاکھ سے زائد کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ ہندوستان میں زراعت سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ وہ ’’درآمدی‘‘ بیج ہیں جو امریکی کمپنیوں نے مقامی کسانوں کو فروخت کئے۔ ان بیجوں سے بہتر پیداوار اور سرمائے کی بچت کے جو دعوے کئے گئے تھے، وہ درست ثابت نہ ہوئے جس کے نتیجے میں کسانوں کی مالی حالت بد سے بدتر ہوگئی، وہ قلاش ہوگئے اور یوں لاکھوں کسان مایوسی کے عالم میں خودکشی کرتے چلے گئے۔ ہندوستان میں یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

بھارت میں کام کرنے والی غیر ملکی زرعی کمپنیاں ان الزامات سے انکاری ہیں۔ علاوہ ازیں، اس ضمن میں مختلف عالمی زرعی اداروں کی تحقیقات سے بھی یہ معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان میں کسانوں کی اتنے بڑے پیمانے پر خودکشیوں کی وجہ بھارت سرکار کی اپنی پالیسیاں ہیں جن کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کی غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ بحث بھی اب تک جاری ہے۔

اب اگر زرعی تحقیق سے وابستہ عالمی اداروں کی بات کریں تو یہی پتا چلتا ہے کہ گرٹ/ سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی وضع تو کی جاچکی ہے لیکن شدید اعتراضات کے باعث اب تک اسے بڑے اور تجارتی پیمانے پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ ان عالمی اداروں کی باتیں سر آنکھوں پر ان کا ایسا کہنا محتاط اور غیر جانبدارانہ تحقیق کا نتیجہ ہے۔

البتہ، مستقبل قریب یا بعید میں اس ٹیکنالوجی کا وسیع تر پیمانے پر استعمال، خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی بڑی وجوہ میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں۔

زرعی حوالے سے پاکستان بلاشبہ ایک خوش نصیب ملک ہے کیونکہ ہمارے زرعی سائنسدان بہت مستعد ہیں جن کی قابلیت عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جاتی ہے۔

پاکستان میں زراعت کے حوالے سے خاصی اچھی اور قابلِ قدر تحقیق ہوچکی ہے۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ہمارے زرعی سائنسدان اس وقت کم از کم ایک درجن نئی اقسام کی فصلیں تیار کرچکے ہیں جو بہتر ہیں اور زیادہ پیداوار دینے والی بھی ہیں۔ لیکن وسیع تر پیمانے پر ان کے استعمال کیلئے حکومتی اجازت درکار ہے جو انہیں اب تک نہیں ملی۔ اس کے برعکس، غیر ملکی کمپنیوں کو بہت آرام سے درآمدی بیج پاکستان میں متعارف کروانے کیلئے این او سی اور لائسنس جاری ہورہے ہیں۔

اگر میں صرف فیصل آباد کی بات کروں تو وہاں نبجی، نیاب اور زرعی یونیورسٹی میں اس متعلق بہت اچھا کام ہوچکا ہے۔ ٹنڈوجام، سندھ کے زرعی تحقیقی مرکز میں بھی کچھ نئی فصلیں تیار کی جاچکی ہیں۔ بارانی زرعی یونیورسٹی، مری روڈ، راولپنڈی میں ایسی اجناس پر کام ہوچکا ہے (اور مسلسل ہورہا ہے) جنہیں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

جامعہ کراچی کے موجودہ شیخ الجامعہ (وائس چانسلر)، پروفیسر ڈاکٹر اجمل کے تحقیقی گروپ نے برسوں پہلے ایسی فصلیں تیار کرلی تھیں جو زیادہ کھارے پانی میں بہتر پیداوار دے سکتی ہیں۔ ایسے پودوں کو ’’ہیلوفائٹس‘‘ (halophytes) کہا جاتا ہے جو ’’شور زدہ زمین‘‘ (نمک کی زیادہ مقدار سے متاثر زمین) میں سہولت سے اُگ سکتے ہیں۔

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں جن سے میں خود واقف ہوں۔ کم از کم زراعت کی حد تک اطمینان رکھئے کہ ہمارے ماہرین نے کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

البتہ، جب سے پاکستان میں نام نہاد جمہوریت کا تسلسل شروع ہوا ہے (2008ء سے)، تب سے سرکاری سطح پر اس جانب توجہ تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ مثلاً مشرف دورِ حکومت میں (2002ء میں) ایک عدد ’’نیشنل کمیشن آن بایو ٹیکنالوجی‘‘ قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد جدید بایوٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اس ضمن میں تحقیقی منصوبوں کیلئے درکار سرمایہ فراہم کرنا بھی تھا۔ مگر ہماری ’’جمہوری حکومت‘‘ نے 2009ء میں وہ کمیشن ہی ختم کردیا۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ دورِ جدید میں صحت کے علاوہ زراعت میں بھی بایو ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے؛ اور نت نئی فصلیں تیار کی جارہی ہیں جو ناموافق ماحول کے خلاف زبردست مزاحمت کے علاوہ زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ آج سے دس سال پہلے نیشنل کمیشن آن بایو ٹیکنالوجی کا خاتمہ، پاکستان میں جاری زرعی تحقیق کیلئے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھا۔ ضرورت ہے کہ اس کمیشن کا احیائے نَو کیا جائے تاکہ زرعی بایو ٹیکنالوجی کے ذیل میں ہونے والا کام ایک بار پھر منظم اور مؤثر کیا جاسکے۔

آخر میں آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کروں گا کہ اگر کوئی بات ہمیں اپنی رائے کے خلاف محسوس ہو تو اسے سامنے والے کی جہالت نہ سمجھا کریں اور نہ یہ کہہ کر رد کیا کریں کہ وہ سائنس کے خلاف ہے۔ بلکہ پہلے اسے مختلف ذرائع سے کھنگال لیا کریں اور مختلف عقلی پہلوؤں سے اس کا جائزہ لے لیا کریں۔ سوشل میڈیا پر آکر تنقید کرنا بہت آسان کام ہے لیکن حقائق کو کھنگالنے اور سچائی تک پہنچنے میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔
اتفاق کرنا یا اختلاف کرنا آپ کا حق ہے، لیکن اس حساس سوال کو تمام پہلوؤں سے اچھی طرح کھنگال کر کوئی رائے قائم کیجئے گا۔ صرف میرے یا کسی اور کے لکھے/ کہے پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کرلیجئے گا۔
آپ کا،
علیم احمد
گرٹ/ سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی کے بارے میں ’’وکی پیڈیا‘‘ آرٹیکل کا لنک:
گرٹ/ سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی کے بارے میں ’’انٹرنیشنل سروس فار دی ایکویزیشن ایگری بایوٹیک ایپلی کیشنز (ISAAA) کا ویب لنک:
جریدے ’’لائف سائنسز، سوسائٹی اینڈ پالیسی‘‘ میں بھارتی کسانوں کی خودکشی سے متعلق بحث کا احاطہ کرتا ہوا تحقیقی مقالہ:
’’گلوبل ریسرچ‘‘ کی ویب سائٹ پر سیڈ ٹرمنیٹر ٹیکنالوجی کی ہندوستانی ناقد، ڈاکٹر وندنا شیوا کا مضمون:

https://www.globalresearch.ca/the-seeds-of-suicide-how-monsanto-destroys-farming/5329947