سونا موتی: قدرتی فولک ایسڈ سے بھرپور، 2,000 سال قدیم گندم

دو ہزار سال قدیم اس گندم میں قدرتی طور پر فولک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہے

بھارت میں زرعی تعلیم و تحقیق پر کام کرنے والے ایک نجی ادارے ’’انسٹی ٹیوٹ آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ٹرسٹ‘‘ نے 2000 سال پرانی گندم کی ایک دیسی ورائٹی دریافت کی ہے جس کی بے مثال خوبیوں کی بنا پر ہم اسے کرشماتی گندم کا نام دے سکتے ہیں۔

ادارے نے اس دیسی ورائٹی کا نام ’’سونا موتی‘‘ رکھا ہے۔ سونا موتی نام رکھنے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اس کے دانے روایتی گندم کی طرح لمبوترے کم اور موتیوں کی طرح قدرے گول زیادہ ہیں؛ اور دوسرے اس کے اندر ایسے غذائی اجزاء دریافت ہوئے ہیں جن کی مناسبت سے اسے سونے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔

اس ادارے سے وابستہ ڈاکٹر پربھاکر راؤ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سونا موتی گندم میں پروٹین کی مقدار عام گندم سے 40 فیصد زیادہ ہے۔

اسی طرح سونا موتی گندم میں قدرتی فولک ایسڈ کی بھی اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ فولک ایسڈ ایک ایسا غذائی جزو ہے جو عام گندم، چاول، اور مکئی وغیرہ میں نہیں پایا جاتا۔ چند ایک اجناس میں فولک ایسڈ قدرتی طور پر ضرور موجود ہوتا ہے لیکن سونا موتی میں فولک ایسڈ کی مقدار کسی بھی جنس کے مقابلے میں 12 فیصد زائد ہے۔

انسانی غذا میں فولک ایسڈ کی کمی کئی ایک امراض کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان کئی سال سے کوشش کر رہے ہیں کہ گندم کی کوئی ایسی ورائٹی تیار کرلیں جس میں فولک ایسڈ قدرتی طور پر موجود ہو، لیکن اب تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

البتہ جس طرح نمک میں آیوڈین شامل کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح گندم میں بھی مصنوعی فولک ایسڈ شامل کرکے آٹا تیار کیا جا رہا ہے جو غیر قدرتی ہونے کے ساتھ ساتھ خاصا مہنگا بھی ہے اور عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے۔

امریکہ میں 1998 میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کے مطابق گندم کے آٹے میں مصنوعی فولک ایسڈ شامل کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔ لیکن جدید تحقیق میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مصنوعی فولک ایسڈ انسان کی صحت کیلئے کئی طرح کے مسائل بشمول کینسر کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ لہٰذا سائنس دانوں نے اب اس بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے کہ مصنوعی فولک ایسڈ، قدرتی فولک ایسڈ کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔

اس صورت حال میں سونا موتی گندم کی اہمیت، کہ جس میں قدرتی طور پر فولک ایسڈ پایا جاتا ہے، اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

فولک ایسڈ کے علاوہ، سونا موتی گندم میں معدنیات (منرلز) کی مقدار بھی عام گندم سے 241 فیصد زیادہ ہے جبکہ گلوٹن اور گلائی سیمک جیسے مضر اجزاء کی مقدار عام گندم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

اس سال بھارتی پنجاب کے ضلع بھٹنڈا میں 20 کسانوں نے سونا موتی گندم کاشت کر رکھی ہے جس کی مجموعی پیداوار کا اندازہ تقریباً 450 من ہے۔ ڈاکٹر پربھاکر راؤ کے مطابق، تمام کی تمام سونا موتی گندم 3200 روپے فی من کے حساب سے ایڈوانس بُک ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں عام گندم کا نرخ تقریباً 1200 روپے فی من ہے۔

پاکستان میں بھی اب لوگ صحت بخش غذا کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں بھی سونا موتی گندم کی مارکیٹ موجود ہے۔ اگر اس کا بیج منگوا کر کسانوں کو کاشت کرنے کیلئے دیا جائے تو تھوڑی سی آگاہی کے ساتھ اسے بڑے شہروں میں کم از کم دوگنی قیمت پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ایک طرف تو لوگوں کو صحت بخش آٹا کھانے کو ملے گا تو دوسری جانب ہمارے کاشتکاروں کو بھی مالی فائدہ حاصل ہوگا۔ کاشتکار اس گندم کو اگا کر اگر اپنے گھر میں استعمال کریں تو اس سے انہیں صحت کے بیش بہا فوائد حاصل ہوں گے۔

البتہ دیسی ورائٹی ہونے کی وجہ سے اس گندم کی پیداوار قدرے کم ہے۔

لیکن سونا موتی گندم کو بریڈنگ پروگرام میں شامل کرکے مستقبل میں گندم کی ایسی ورائٹیاں تیار کی جاسکتی ہیں جو سونا موتی کی تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار کی بھی حامل ہوں۔ زرعی ماہرین کو اس طرف فوری توجہ دینی چاہئے اور بھارت سے یہ بیج منگوا کر اس پر تحقیق شروع کرنی چاہئے۔