ستاروں کے ’’مواقع‘‘ کی قسم

اللہ تعالیٰ نے سورۂ واقعہ میں ’’ستاروں کے مواقع کی قسم‘‘ کھانے کے بعد اسے ایک ’’بڑی قسم‘‘ ہی کیوں قرار دیا ہے؟

یہ تحریر ماہنامہ گلوبل سائنس کے شمارہ فروری اور اپریل 2012ء میں قسط وار شائع ہوئی۔

سورۃ الواقعہ کی 75 سے 76 ویں آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ’’ستاروں کے مواقع‘‘ (مواقع النجوم) کی قسم کھائی ہے؛ اور اسے ایک بڑی قسم (قسم عظیم) بھی قرار دیا ہے۔ چونکہ ستاروں کا تعلق مظاہر قدرت سے ہے، لہٰذا اکیسویں صدی کے ایک جدید ذہن کا اس بارے میں سوال اٹھانا بالکل بجا ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر ستاروں کے مواقع کی قسم کھانے کے بعد اسے ایک ’’بڑی قسم‘‘ ہی کیوں قرار دیا ہے؟ اس سوال کا جواب تقاضا کرتا ہے کہ جہاں ہم علمائے کرام کی تفاسیر پر غور کریں، وہیں ستاروں اور وسیع تر کائنات سے بحث کرنے والے علوم (خاص کر فلکیات، فلکی طبیعیات اور کونیات) کا مطالعہ بھی کریں۔

اس سے پہلے کہ سورۃ الواقعہ کی مذکورہ دونوں آیاتِ مبارکہ پر گفتگو کا باضابطہ آغاز کیا جائے، ہم ان کی عبارت اور مختلف اُردو تراجم اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

فَلَآ اُقْسِمْ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ (75) وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ (76)

(اُردو ترجمہ از مولانا محمد جونا گڑھیؒ): ’’پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی۔ اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔‘‘

(اُردو ترجمہ از مولانا فتح محمد جالندھریؒ): ’’ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔‘‘

(اُردو ترجمہ از مفتی محمد شفیعؒ): ’’سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کی۔ اور یہ قسم ہے اگر سمجھو تو بڑی قسم۔‘‘

(اُردو ترجمہ از مولانا مودودیؒ): ’’پس، نہیں میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔‘‘

مذکورہ بالا اُردو تراجم دیکھنے کے بعد کم از کم تین پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں:

اوّل: اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی نہیں بلکہ ستاروں کے ’’مواقع‘‘ کی قسم کھائی ہے؛

دوم: اس قسم کو بہت بڑی قسم (عظیم قسم) بھی قرار دیا ہے؛

سوم: ساتھ ہی ساتھ ’’اگر تم سمجھو‘‘ کہہ کر بنی نوع انسان کو پُرزور انداز سے متوجہ بھی کیا ہے کہ وہ اِس قسم کے عظیم ہونے کا نکتہ سمجھنے کی کوشش کرے۔

ہرچند کہ قرآنِ پاک ساری دنیا اور رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت کا پیغام ہے، لیکن مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کلامِ پاک کے اوّلین مخاطب ہم مسلمان ہی قرار پاتے ہیں۔ لہٰذا ’’اگر تم سمجھو‘‘ میں موجود، واضح دعوت پر لبیک کہتے ہوئے، اب ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کا ستاروں کے مواقع کی قسم کھانا اور پھر اس قسم کو ’’عظیم‘‘ قرار دینا کن کن اعتبار سے معنی خیز ہے (یا معنی خیز ہوسکتا ہے)۔

البتہ، مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہم مظاہر فطرت سے بحث کرنے والی آیاتِ مبارکہ کی تفسیر و تشریح کے بارے میں مولانا شہاب الدین ندویؒ کی رائے بیان کردینا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ شرعی امور کے برعکس، مظاہرِ قدرت اور نظامِ فطرت سے تعلق رکھنے والی آیاتِ قرآنی کی تفسیر کے معاملے میں خود مفسرین کے درمیان بھی خاصا اختلافِ رائے موجود ہے۔ یعنی اس قسم کی آیاتِ مبارکہ کی تفسیر کبھی مکمل یا ’’حرفِ آخر‘‘ نہیں بن سکتی۔ بلکہ علومِ کائنات (یعنی سائنسی علوم) میں جیسے جیسے ترقی ہوتی جائے گی، ویسے ویسے ان آیاتِ مبارکہ کا بہتر مفہوم اور ان کے حیرت انگیز معجزانہ پہلو بھی ہم پر واضح ہوتے چلے جائیں گے، جو دراصل نوعِ انسانی کی فکری و اعتقادی اور تہذیبی و تمدنی، ہر اعتبار سے رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا، جب ہم قرآنِ پاک میں سائنسی مباحث کے حوالے سے آیاتِ مبارکہ کا سنجیدہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ان میں ایک حیرت انگیز معنوی وسعت اور لچک کا پتا چلتا ہے تاکہ قیامت تک وجود میں آنے والے تمام جدید علوم و فنون سے متعلق بحث، ان آیاتِ مبارکہ کی تشریح و تفسیر میں کی جاسکے۔ اس کا واضح مقصد منکرین اور معاندین پر (بذریعہ عقلی دلیل) اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کرنا ہے۔

یہ رائے بیان کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم سورۃ الواقعہ کی مذکورہ دو آیاتِ مبارکہ پر جتنی بھی سائنسی گفتگو کریں گے، وہ آج کے دَور میں دستیاب سائنسی علم کی مناسبت سے ہوگی۔ علاوہ ازیں، شعوری طور پر ہماری کوشش یہ بھی رہے گی کہ قرآنِ پاک کی مدد سے سائنس کو، یا سائنس کی مدد سے قرآنِ پاک کو ’’ثابت‘‘ کرنے سے بچتے رہیں۔ اس کے برعکس، قارئین کو یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے کس قدر اختصار اور جامعیت کے ساتھ ہم تک ایک ایسی دعوت پہنچائی ہے جو ہمارے لئے بیک وقت دنیا اور آخرت، دونوں میں خیر اور سرخروئی کا باعث ہے۔

یاد رہے کہ یہ تحریر، سائنس کے ایک ادنیٰ طالب علم کی ہے؛ اور انتہائی نامکمل اور غیر حتمی بھی ہے۔ لہٰذا، اسے معلومات میں اضافے کے لئے ضرور پڑھا جاسکتا ہے لیکن کسی سنجیدہ علمی گفتگو میں بطور دلیل ہر گز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ محض ایک خیال ہے جو اپنی حتمی تصدیق یا تردید کے لئے علمائے دین اور علمائے سائنس کے مابین خالص تحقیقی مکالمے کا متقاضی ہے۔

 

’’مواقع‘‘ کا مفہوم

اُردو میں ہم ’’موقع‘‘ اور ’’مواقع‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو عموماً کسی خاص جگہ یا واقعے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مثلاً ’’بہت انتظار کے بعد آخرکار اسے موقع مل ہی گیا،‘‘ یا ’’پولیس موقعۂ واردات پر پہنچ گئی،‘‘ وغیرہ۔ یاد رہے کہ اُردو اور ہندی میں ’’موقع‘‘ کا لفظ (جس کی جمع ’’مواقع‘‘ ہے) عربی ہی سے آیا ہے، اور آج ان دونوں زبانوں میں عام استعمال ہونے والے الفاظ میں شامل ہے۔ فرہنگِ آصفیہ میں ’’موقع‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے، مولوی سیّد احمد دہلوی لکھتے ہیں: ’’واقع ہونے کی جگہ۔ کسی کام کے کرنے کی جگہ۔ جائے وقوع۔ وقتِ مناسب۔ خاص وقت۔‘‘ اسی طرح موقع کی جمع، یعنی ’’مواقع‘‘ کے تحت وہ رقمطراز ہیں: ’’موقع کی جمع۔ محل۔ موقعے۔‘‘

یہ تو ہوئی اُردو اور ہندی کی بات۔ لیکن عربی زبان میں، کہ جہاں سے یہ لفظ وارد ہوا ہے، معاملہ تھوڑا سا مختلف ہے۔ اور اس کا اظہار ان تراجم سے بھی ہوتا ہے جو ہم نے اوپر پیش کئے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے کہ مولانا محمد جونا گڑھی کے نزدیک یہ ’’ستاروں کے گرنے کی‘‘ قسم ہے؛ مولانا فتح محمد جالندھری اسے ’’تاروں کی منزلوں کی‘‘ قسم کہتے ہیں؛ مفتی محمد شفیع صاحب کی رائے میں یہ ’’ستاروں کے ڈوبنے کی‘‘ قسم ہے؛ جبکہ مولانا مودودی اسے ’’تاروں کے مواقع کی‘‘ قسم ہی قرار دیتے ہیں۔

البتہ، مولانا محمد عبدالرشید نعمانی ’’لغات القرآن‘‘ میں ’’مواقع‘‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جمع مضاف موقع واحد۔ منزلیں، فرودگاہیں، مراد ستاروں کے غروب ہونے کے منازل… (اسم) آسیب، کسی چیز پر دوسری چیز کا گرنا، اونچی جگہ، وہ ابر جس سے بارش کی امید ہو…‘‘ (بحوالہ: لغات القرآن، جلد پنجم، صفحہ 468، مطبوعہ 1994ء، دارالاشاعت، کراچی)

ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ممکنہ طور پر، یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ شاید قرآنِ پاک میں ’’مواقع النجوم‘‘ سے اللہ تعالیٰ نے ’’ستاروں کے واقع ہونے کی اونچی جگہیں‘‘ لی ہوں؛ کیونکہ مولانا عبدالرشید نعمانی نے بھی ان کا ایک مفہوم ’’اونچی جگہ‘‘ کے طور پر لیا ہے۔ چونکہ ستارے آسمان پر ہوتے ہیں، اور آسمان کے ساتھ اونچائی یا بلندی کا تصور بھی وابستہ ہے؛ اس لئے اگر یہ سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شاید قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے وہی مخصوص اندازِ بیان اختیار کرتے ہوئے ایک ایسی قسم کھائی ہے جسے درست طور پر سمجھنے کے لئے بھی تحقیق و جستجو کی ضرورت ہے۔

 

’’عظیم‘‘ قسم؟

یہ بات کہنا ہمیں اس لئے بھی برمحل محسوس ہورہا ہے کیونکہ قسم کھانے کے فوراً بعد، اگلی ہی آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو متوجہ بھی کیا ہے کہ دیکھو! یہ قسم (یعنی ستاروں کے ’’مواقع‘‘ کی قسم) کوئی معمولی نہیں بلکہ بہت ہی ’’عظیم‘‘ قسم ہے؛ بشرطیکہ تم سمجھو۔

قرآنِ پاک کے اُردو مترجمین اور مفسرین نے ’’عظیم‘‘ کا ترجمہ بھی ’’بڑی‘‘ کے طور پر کیا ہے۔ لیکن کیا عربی لفظ ’’عظیم‘‘ کا جاہ و جلال، اُردو کے ’’بڑے‘‘ سے ادا ہوسکتا ہے؟ خدانخواستہ ہمارا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ بلند پایہ مفسرین و مترجمین پر تنقید کی جائے؛ بلکہ ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اِن دونوں آیاتِ مبارکہ کا سیاق و سباق (context) جس مفہوم کی طرف اشارہ کررہا ہے، شاید وہ ’’بڑے‘‘ یا ’’بہت بڑے‘‘ جیسے اردو الفاظ سے ادا نہیں ہوسکتا۔

’’عظیم‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ اس پر مولانا محمد عبدالرشید نعمانی نے اپنی تصنیف ’’لغات القرآن‘‘ میں خاطر خواہ بحث کی ہے اور متعدد حوالہ جات سے اس لفظ کی تاریخ اور سیاق و سباق پر روشنی ڈالی ہے۔ لفظ ’’عظیم‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے وہ اسے بزرگ اور بڑے کے ہم معنی بتاتے ہیں۔ البتہ، درمیان میں ایک مقام پر انہوں نے بہت اہم بات بھی لکھی ہے: ’’اور علامہ زمخشری، تفسیر کشاف میں رقم طراز ہیں کہ ’’عظیم‘‘ اور ’’کبیر‘‘ میں فرق یہ ہے کہ عظیم، حقیر کی نقیض ہے اور کبیر، صغیر کی۔ لہٰذا عظیم، کبیر سے بڑھ کر ہے؛ جس طرح سے حقیر، صغیر سے کم تر ہے۔ اور ان دونوں الفاظ کا استعمال، اجسام و اعراض کے لئے ہوتا ہے۔‘‘ (لغات القرآن۔ جلد چہارم، صفحہ 328)

یہاں ایک اور توجہ طلب نکتہ، خالق اور مخلوق میں فرق کا ہے۔ مثلاً انسان کا کسی کو ’’عظیم‘‘ کہنا خود اس کی مناسبت سے ہوگا۔ یعنی انسان کے نزدیک ’’عظیم‘‘ ہونے کا یہ پیمانہ صرف وہیں تک ہوگا جہاں تک خود اس کی فکر اور شعور کی انتہائی حدود پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن تصور کیجئے اس ذات کا، اس ہستی کا جو ہر اعتبار سے لامحدود ہے؛ اُس اللہ رب العزت کا جس کے اختیار و اقتدار کی کوئی حد نہیں۔ اگر وہ ہستی، انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کسی چیز کی قسم کو ’’عظیم‘‘ قرار دے تو کیا ہم اُس قسم کو محض ’’بڑی‘‘ کہہ کر آگے بڑھ سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ سورۃ الواقعہ کی زیرِ بحث آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ستاروں کے مواقع کی قسم کو ’’عظیم‘‘ قرار دینے کے بعد ’’اگر تم سمجھو‘‘ کہہ کر گویا پوری انسانیت کے سامنے ایک چیلنج رکھ دیا ہے: وہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ قسم کتنی عظیم ہے۔

ان تمام مباحث کو سمیٹتے ہوئے، ہم سورۃ الواقعہ کی آیات 75 تا 76 کا ایک اور ممکنہ مفہوم دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں: ’’پس، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مقامات کی (جو نہایت بلندی پر واقع ہیں)۔ اور یہ غیر معمولی طور پر بہت ہی بڑی قسم ہے، بشرطیکہ تم اسے سمجھ پاؤ۔‘‘

ایک بار پھر کہیں گے کہ ہمیں اپنی رائے کے درست ہونے پر ہر گز کوئی اصرار نہیں۔ یہاں ہم صرف ایک نقطۂ نظر پیش کرنے کی عاجزانہ کوشش کررہے ہیں۔ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ علمائے کرام اور ماہرینِ فلکیات و کونیات کے مابین تحقیقی مکالمے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

 

مطالعۂ تفاسیر

عربی کے بعد اُردو دنیا کی وہ خوش نصیب ترین زبان ہے کہ جس میں قرآنِ پاک کے تراجم اور تفاسیر پر سب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ بلاشبہ، قرآنِ پاک کی اُردو تفاسیر (طبع زاد اور ترجمہ شدہ، دونوں) کسی بھی طرح پچاس سے کم نہیں؛ جبکہ ہر کچھ سال بعد اس تعداد میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ یہاں ہم سورۃ الواقعہ کی مذکورہ آیاتِ مبارکہ کے بارے میں صرف چند تفاسیر سے حوالہ جات پیش کریں گے، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ مفسرینِ کرام نے ان آیاتِ مبارکہ سے متعلق کیا رائے قائم کی ہے۔

تفسیر ابنِ کثیر میں ہے: ’’قرآن کا مقام (آیات 75 تا 82): حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں کہ خدا کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ جمہور فرماتے ہیں کہ یہ قسمیں ہیں، اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے… مواقع نجوم سے مراد قرآن کا بتدریج اُترنا ہے۔ لوحِ محفوظ سے تو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمانِ اوّل پر اُتر آیا، پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اُترتا رہا؛ یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اُتر آیا۔ مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں۔ مواقع سے مراد منازل ہیں۔ حسنؒ فرماتے ہیں قیامت کے دن ان کا منتشر ہوجانا ہے۔ ضحاکؒ فرماتے ہیں ان سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے ہیں کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے، اس لئے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جارہی ہے، وہ بہت بڑا امر ہے؛ یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے…‘‘

جناب مفتی شفیعؒ کی تصنیف ’’معارف القرآن‘‘ (جلد ہشتم، صفحہ 283) میں ان آیات کی تفسیر کچھ یوں بیان کی گئی ہے: ’’یہاں ستاروں کے چھپنے کی قسم اپنے مفہوم اور مقصد کے اعتبار سے ایسی ہے جیسے شروع سورۂ والنجم میں ہے جس کا وہاں بیان ہوچکا ہے جس میں ستاروں کا باعتبار غروب کے حضورﷺ کے موصوف بالنبوّۃ اور منارالہدیٰ ہونے کا نظیر ہونا بھی بیان ہوا ہے جو کہ مقصودِ عام ہے، اور قسمیں جتنی قرآن میں ہیں بوجہ دلالت علی المطلوب کے سب ہی عظیم ہیں، لیکن کہیں کہیں مطلوب کے خاص اہتمام اور اس پر زیادہ متنبہ کرنے کے لئے عظیم ہونے کی تصریح بھی فرمادی ہے، جیسا کہ اس جگہ اور سورۂ والفجر میں…‘‘

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی ’’تفسیرِ عثمانی‘‘ میں (جلد دوم، صفحہ 640 پر) ان آیات کی مختصر وضاحت کچھ ایسے ہے: ’’اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ قسم کھاتا ہوں آیتوں کے اُترنے کی پیغمبروں کے دلوں میں (موضح) یا آیاتِ قرآن کے اُترنے کی آسمان سے زمین پر، آہستہ آہستہ، تھوڑی تھوڑی۔‘‘

شیخ ابومحمد عبدالحق الحقانی دہلویؒ کی ’’تفسیرِ حقانی‘‘ (جلد ہفتم، صفحہ 35) میں تحریر ہے: ’’اِن دلائل میں اعجازِ قرآنی بھی اپنا جلوہ دکھا گیا تھا اور چوتھی دلیل میں ایک حرارتِ قدرتی کا ذکر تھا کہ وہ مسافروں کیلئے رہنما بھی ہوجاتی ہے، اب ترقی کرتا ہے کہ ارضی چیزوں پر کیا موقوف ہے، ستاروں میں بھی اس رہنمائی کا وصف رکھا گیا ہے؛ اس لئے مواقع النجوم کی قسم کھا کر اور یہ جتلا کر کہ یہ قسم بڑی قسم ہے، قرآنِ مجید کا منجانب اللہ ہونا اور اس کے چند اوصافِ حمیدہ بیان فرماتا ہے…‘‘

مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنیؒ اپنی مرتب کردہ تفسیر ’’انوار البیان‘‘ (جلد 9، صفحہ 113) میں لکھتے ہیں: ’’مواقع النجوم‘‘ سے کیا مراد ہے؟ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے آسمان کے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ مطالع النجوم مراد ہیں۔ اور حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ نجوم سے نجوم القرآن مراد ہیں۔ نجوم، نجم کی جمع ہے، جو ستاروں کے معنی میں بھی آتا ہے اور قسط وار جو کوئی چیز بھی دی جائے، اس کی تھوڑی تھوڑی ادائیگی کو بھی نجم کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا قرآنِ مجید جو نازل ہورہا ہے جسے فرشتے لوحِ محفوظ سے لے کر آتے ہیں، ان نجوم اور اقساط کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن جو بالاقساط نازل ہورہا ہے، کتابِ محفوظ میں محفوظ ہے۔ اس کتابِ محفوظ تک انسان اور جنات کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ان کو اس میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔‘‘

سورۃ الواقعہ کی مذکورہ آیاتِ مبارکہ کی غالباً سب سے توجہ طلب تفسیر، ابوالاعلیٰ مولانا مودودیؒ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان کی ہے۔ ملاحظہ کیجئے:

’’تاروں اور سیاروں کے مواقع سے مراد ان کے مقامات، ان کی منزلیں اور ان کے مدار ہیں۔ اور قرآن کے بلند پایہ کتاب ہونے پر اُن کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ عالمِ بالا میں اجرامِ فلکی کا نظام جیسا محکم اور مضبوط ہے ویسا ہی مضبوط اور محکم یہ کلام بھی ہے۔ جس خدا نے وہ نظام بنایا ہے، اُسی خدا نے یہ کلام بھی نازل کیا ہے۔ کائنات کی بے شمار کہکشانوں (Galaxies) اور اُن کہکشانوں کے اندر بے حد و حساب ستاروں (Stars) اور سیاروں (Planets) میں جو کمال درجہ کا ربط و نظم قائم ہے، درآنحالیکہ بظاہر وہ بالکل بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں، اسی طرح یہ کتاب بھی ایک کمال درجہ کا مربوط و منظم ضابطۂ حیات پیش کرتی ہے جس میں عقائد کی بنیاد پر اخلاق، عبادات، تہذیب و تمدن، معیشت و معاشرت، قانون و عدالت، صلح و جنگ، غرض انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر مفصل ہدایات دی گئی ہیں، اور ان میں کوئی چیز کسی دوسری چیز سے بے جوڑ نہیں ہے، درآنحالیکہ یہ نظامِ فکر متفرق آیات اور مختلف مواقع پر دیئے ہوئے خطبوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر جس طرح خدا کے باندھے ہوئے عالمِ بالا کا نظام اٹل ہے جس میں کبھی ذرّہ برابر فرق واقع نہیں ہوتا، اسی طرح اِس کتاب میں بھی جو حقائق بیان کئے گئے ہیں اور جو ہدایات دی گئی ہیں، وہ بھی اٹل ہیں۔ ان کا ایک شوشہ بھی اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاسکتا۔‘‘

 

ستاروں کے ’’مواقع‘‘ اور ’’عظیم‘‘ میں تعلق

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا مودودیؒ نے سورۃ الواقعہ کی اِن آیاتِ مبارکہ کی قدرے مختلف توجیح بیان کی ہے؛ جس میں انہوں نے جدید سائنسی علوم سے حاصل ہونے والی معلومات سے بھی بجا طور پر استفادہ کیا ہے۔ تاہم، غور طلب نکتہ یہ بھی ہے کہ کیا صرف ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کا حوالہ دے دینا ہی کافی ہے؟ ستاروں کے ’’مواقع‘‘ کی قسم ’’عظیم‘‘ کیوں ہے؟ اور یہ کتنی ’’عظیم‘‘ ہوسکتی ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لئے ہمیں مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت ہوگی۔

جب ستاروں کی بات ہوتی ہے تو ہر ستارہ اپنی اپنی جگہ ایک سورج ہی ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارا سورج بھی دراصل ایک ستارہ ہی ہے جس کے گرد ہماری زمین گردش کررہی ہے۔ نظامِ شمسی (سولر سسٹم) کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ، یہ ہم سے قریب ترین ستارہ بھی ہے۔ لیکن، سب سے ’’قریبی‘‘ ہونے پر بھی زمین سے اس کا فاصلہ پندرہ کروڑ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے؛ اور اسی لئے اس کی روشنی ہم تک تقریباً آٹھ منٹ اور بیس سیکنڈ (500 سیکنڈ) میں پہنچتی ہے۔ یعنی جس وقت ہم سورج کو غروب ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اس سے آٹھ منٹ بیس سیکنڈ پہلے غروب ہوچکا ہوتا ہے۔

روشنی کو سورج سے ہم تک پہنچنے میں آٹھ منٹ اور بیس سیکنڈ لگ جاتے ہیں

سورج کے بعد ’’کائناتی پڑوس‘‘ میں، زمین سے دوسرا قریب ترین ستارہ ’’قنطورس الف‘‘ (الفا سینٹوری) ہے۔ اس سے چلنے والی روشنی ہم تک چار سال اور چار مہینے (4.3 سال) میں پہنچتی ہے؛ جسے ہم یوں بھی کہتے ہیں کہ قنطورس الف، زمین سے 4.3 نوری سال کی دُوری پر واقع ہے۔ خلاء میں روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ اِس رفتار کو ایک سال میں سیکنڈوں کی مجموعی تعداد سے ضرب دیجئے تو جو فاصلہ حاصل ہوگا، وہ 9,460 اَرب کلومیٹر کے برابر ہوگا۔ اب اسے 4.3 سے ضرب دیجئے تو معلوم ہوگا کہ الفا سینٹوری کا زمین سے فاصلہ 40,678 اَرب کلومیٹر ہے۔ یہ بات اس طرح بھی کہی جاسکتی ہے کہ الفا سینٹوری کا ’’موقع‘‘ (واقع ہونے کی جگہ) ہم سے اتنی دوری پر ہے۔

الفا سینٹوری، سورج کے بعد ہم سے قریب ترین ستارہ ہے جو ہم سے ’’صرف‘‘ 4.3 نوری سال دور ہے

ایک اور ستارہ ’’شعریٰ‘‘ (Sirius) بھی ہے جس کا تذکرہ قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے۔ یہ رات کے وقت آسمان میں سب سے روشن ستارہ بھی ہے۔ یہ ہم سے 8.7 نوری سال دُور ہے… یعنی الفا سینٹوری کے مقابلے میں دُگنے سے بھی زیادہ فاصلے پر۔

ستارہ شعریٰ (Sirius) کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے؛ یہ ہم سے 8.7 نوری سال دوری پر واقع ہے

ہم جس کہکشاں کے باسی ہیں، اسے دودھیا راستہ (ملکی وے) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مرغولہ نما (spiral) کہکشاں ہے جس میں (تازہ ترین اندازوں کے مطابق) 250 اَرب کے لگ بھگ ستارے ہیں؛ تاہم اس تعداد میں 150 ارب کمی بیشی کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، ہماری ملکی وے کہکشاں کا قطر 105,700 نوری سال ہے۔ یعنی اگر روشنی کی رفتار (تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) سے سفر کیا جائے، تو اس کہکشاں کے ایک کنارے سے دوسرے (مخالف) کنارے تک پہنچنے میں ایک لاکھ پانچ ہزار اور سات سو سال لگ جائیں گے۔

ہماری کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ کا قطر 105,700 نوری سال کے لگ بھگ ہے

اگر آپ کو اب بھی یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ ستاروں کے ’’مواقع‘‘ کی قسم کتنی ’’عظیم‘‘ ہے تو کچھ اور مثالیں دیکھئے:

اینڈرومیڈا (مراۃ المسلسلہ) نامی کہکشاں، ہماری ملکی وے کہکشاں سے قریب ترین واقع کہکشاں بھی ہے۔ ساخت میں یہ ہماری کہکشاں جیسی ہی ہے تاہم جسامت میں اس سے تھوڑی سی بڑی ہے۔ مگر، اتنی قربت پر بھی، اس کا ہم سے فاصلہ تقریباً 25 لاکھ نوری سال ہے۔ یہ ہم سے اتنی دُور ہے کہ اپنے وجود میں سینکڑوں اَرب ستاروں کا مجموعہ ہونے پر بھی ہمیں کسی ستارے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ البتہ، مناسب حد تک طاقتور فلکی دوربین سے دیکھنے پر ہی اس کی جزئیات ہم پر عیاں ہوتی ہیں۔ یہ بات اس طرح بھی کہی جاسکتی ہے کہ اینڈرومیڈا کہکشاں میں موجود ستاروں کے ’’مواقع‘‘ ایسے ہیں کہ ان سے چلنے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں پچیس لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ یعنی اینڈرومیڈا کہکشاں آج جس مقام پر اور جس شکل میں ہمیں دکھائی دے رہی ہے، ایسی دراصل یہ آج سے پچیس لاکھ سال پہلے تھی۔

ملکی وے کی قریب ترین پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا کا ہم سے فاصلہ 25 لاکھ نوری سال ہے

اب ہم اپنے پیمانے کو تھوڑی سی اور وسعت دیتے ہیں اور ’’لوکل گروپ‘‘ پر بات کرتے ہیں۔ لوکل گروپ (Local Group) یا ’’مقامی گروہ‘‘ دراصل دو باقاعدہ اور بڑی کہکشاؤں (ملکی وے اور اینڈرومیڈا) اور چالیس کے لگ بھگ چھوٹی اور بے قاعدہ کہکشاؤں یا ستاروں کے جھرمٹوں کا مجموعہ ہے۔ لوکل گروپ کی جسامت تقریباً ایک کروڑ نوری سال ہے۔ لیکن، کائناتی پیمانے پر، لوکل گروپ کو چھوٹے اور کمتر (poor) کہکشانی جھرمٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ (کائناتی پیمانوں پر) لوکل گروپ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے ’’جھرمٹ‘‘ (cluster) کے بجائے محض ایک ’’گروہ‘‘ کہا جاتا ہے؛ کیونکہ چھوٹے سے چھوٹے کہکشانی جھرمٹ میں بھی کم از کم بیس باقاعدہ کہکشائیں ہوتی ہیں جبکہ لوکل گروپ میں یہ تعداد صرف دو ہے۔

لوکل گروپ، جس میں ہماری کہکشاں اور اینڈرومیڈا کہکشاں شامل ہیں، صرف ایک کروڑ نوری سال جتنا وسیع ہے

لیکن وسعتوں کا قصہ یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا۔ ماہرینِ فلکیات کہتے ہیں کہ لوکل گروپ خود بھی ’’کوما اسکلپٹر بادل‘‘ (Coma-Sculptor Cloud) کا ایک رُکن ہے۔ کوما اسکلپٹر بادل، سینکڑوں کہکشاؤں کا ایک عظیم جھرمٹ ہے جو چار کروڑ نوری سال پر پھیلا ہوا ہے… اور یہ جھرمٹ خود بھی ایک ’’سپر کلسٹر‘‘ (کہکشانی جھرمٹوں کے جھرمٹ) سے تعلق رکھتا ہے جسے ’’لوکل سپرکلسٹر‘‘ (مقامی عظیم جھرمٹ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کوما اسکلپٹر بادل اور جوزا کہکشانی جھرمٹ (Virgo Cluster) سمیت کئی دوسرے کہکشانی جھرمٹ شامل ہیں۔ اندازہ ہے کہ لوکل سپر کلسٹر کی وسعت، تقریباً دس کروڑ نوری سال ہے۔

کوما اسکلپٹر کلاؤڈ کی وسعت چار کروڑ نوری سال ہے
اندازہ ہے کہ لوکل سپر کلسٹر کی وسعت تقریباً دس کروڑ نوری سال ہے

حالیہ برسوں کے دوران چار اَرب نوری سال دوری تک پھیلی ہوئی کہکشاؤں کے جائزوں (surveys) سے معلوم ہوا ہے کہ اتنے حصے میں کہکشاؤں کے تقریباً تین ہزار جھرمٹ موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، حالیہ ترین اندازوں کے مطابق، ہماری کائنات آج سے تیرہ اَرب ستر کروڑ (13.7 بلین) سال پہلے وجود میں آئی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں تیرہ اَرب ستر کروڑ نوری سال دور تک اجرامِ فلکی کا مشاہدہ ہوسکتا ہے۔

جدید ترین تخمینہ جات کے مطابق، ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات کا نصف قطر لگ بھگ 13 ارب 70 کروڑ نوری سال ہے

لیکن اس کا ایک مطلب اور بھی ہے؛ اور وہ یہ کہ ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات کا حجم (volume) تقریباً دس ہزار سات سو اکہتر (10,771) ارب نوری سال ہے!

امید ہے کہ قارئین کو اب تک کائناتی وسعتوں کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔

جب یہ ساری معلومات حاصل ہوجانے کے بعد ہم سورۂ واقعہ کی مذکورہ آیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ستاروں کے ’’مواقع‘‘ کی قسم اور اس قسم کے ’’عظیم‘‘ ہونے سے متعلق ایک اچھوتا سوال ہمارے سامنے آتا ہے: کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ ربّ العزت نے قرآنِ حکیم میں ’’ستاروں کے مواقع‘‘ کی قسم کے پیرائے میں انسان کو کائناتی وسعتوں کی طرف متوجہ کیا ہو؟

ہوسکے تو اس پہلو پر بھی غور کیجئے گا۔