گلوبل سائنس کی کمی اور ’’جہالتی بلیک ہول‘‘

ایک جریدے کا نوحہ، جس نے ایک پوری نسل کی آبیاری کی... اور پھر دم توڑ گیا

گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان کے اخبارات، ٹی وی چینلوں اور خصوصاً سوشل میڈیا پر بلیک ہول سے متعلق خبر کا تذکرہ چھایا رہا۔ ابھی یہ گرد بیٹھی نہیں بلکہ اس پر قسم ہا قسم کے تبصرے اور مباحثے جاری ہیں۔

اس تمام تناظر میں خوش آئند بات یہ ہے کہ پہلی بار پاکستانی عوام خصوصاً نوجوان نسل کی جانب سے کسی سائنسی خبر میں اتنی دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں تو یہ وتیرہ ہے کہ ایک جانب پوری دنیا میں ثقلی موجوں کی دریافت پر بحث چل رہی ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں سیاستدانوں کے ڈرائنگ روموں، کھانوں اور غسل خانوں کے موضوعات زیر بحث ہوتے ہیں۔

عوامی دلچسپی دیکھتے ہوئے میڈیا نے بھی پلٹا کھایا ہے اور ایک سائنسی خبر کو اپنے اخبارات، ویب سائٹس اور ٹکرز میں جگہ دی۔ لیکن ایک بات جو کہ بہت بڑا لمحہ فکریہ بن کر سامنے آئی، وہ یہ ہے کہ میڈیا سمیت عام لوگ، حتیٰ کہ اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور دانشور کہلانے والے طبقے میں بھی سائنسی شعور نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثریت کو یہ معلوم ہی نہیں کہ بلیک ہول کیا بلا ہے۔ حالانکہ مغربی ممالک کے کسی بچے سے بھی پوچھیں گے تو وہ آپ کو بلیک ہول کی ساری تفصیل فرفر بتا دے گا۔

ادھر اگر کسی کو معلوم بھی ہے تو کسی کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بلیک ہول کی تصویر ناسا نے جاری کی ہے یا کسی اور ادارے نے… جبکہ کوئی اس بات پر شش و پنج کا شکار ہے کہ وہ کیمرہ کیسا تھا جس سے بلیک ہول کی تصویر لی گئی۔ ایسے میں کچھ افراد ایسے بھی نظر آئے جو بلیک ہول سے متعلق خبر جاری ہوتے ہی آفاقی کتاب قرآن مجید کی آیات کے خود ساختہ تفاسیری حوالے دے دے کر یہ فرمانے لگے کہ دیکھئے جی ’’یہ بات تو قرآن مجید میں چودہ سو سال پہلے ہی بتا دی گئی تھی۔ مغرب نے آج دریافت کیا!‘‘

بندہ پوچھے کہ اے بھلے آدمیو… قرآن مجید نعوذ باللہ کوئی سائنسی کتاب تو ہے نہیں جو اس سے توجیہات تلاش کرتے ہو۔ بالفرض اس میں اللہ تعالیٰ نے کسی سائنسی حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے تو کیا یہ نہیں کہا کہ کائنات میں میری نشانیوں کو کھوجو، ان پر سوچ بچار کرو، غور و فکر کرو۔ کیا یہ اغیار کے ذمے ہے کہ وہ قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق کو دریافت کریں؟ جبکہ ہم اس حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے محض یہ کہہ کر ہاتھ جھاڑ لیں کہ دیکھیں جی… یہ بات تو چودہ سو سال پہلے ہی کہ دی گئی تھی؛ کیا یہ طرزِ عمل قابلِ تعریف ہے؟

خیر، میرا موضوع بحث ایسے افراد نہیں جو اپنی کم علمی کے باعث ہر نئی دریافت و ایجاد کا سہرا خواہ مخواہ اپنے سر باندھنے کے شوقین ہیں، بلکہ اس تحریر کا مقصد اس طبقے کے متعلق بیان کرنا ہے جو اس سارے تناظر میں کٹی ہوئی پتنگ کی طرح، یا ایک بے ہنگم ہجوم کی مانند بوکھلایا بوکھلایا پھرتا ہے۔ جس کی سمجھ ہی میں نہیں آرہا کہ حقیقت کیا ہے؛ اور اس تک درست طور پر کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔ میری مراد نوجوان طبقے سے ہے جو اس وقت اپنی عمر کی دوسری اور تیسری دہائی سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو گزشتہ صدی کے آخری چند سال یا رواں صدی میں پیدا ہوئے ہیں؛ جنہوں نے ہوش سنبھالتے ہی ڈیجیٹل دور میں قدم رکھا ہے، جنہوں نے لڑکپن سے نوعمری میں قدم رکھتے ہی موبائل فون ہاتھ میں تھام لئے ہیں اور سوشل میڈیا کی اس چکاچوند میں داخل ہوگئے ہیں جہاں اطلاعات (صحیح و غلط) کا بحرِ ناپید کنار ہے۔

اس نسل میں شاذ و نادر ہی کوئی نوجوان ایسا ہو جو میٹرک سے کم تعلیم یافتہ ہو۔ لگ بھگ سبھی نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے یا کر رہے ہیں۔ لیکن، اس کے باوجود، قابلِ رحم حالت میں یوں بوکھلائے ہوئے پھرتے ہیں کہ ایک سائنسی خبر کی حقیقت تک پہنچنا ان کےلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے۔ یہ لوگ کبھی کسی ویب سائٹ تو کبھی یوٹیوب، کبھی فیس بک تو کبھی ٹوئٹر پر خبر کے پس پردہ حقائق کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں وہ مفاد پرست ٹولہ بھی سرگرم ہو چکا ہے جو ’’جانئے بلیک ہول کی تصویر کیسے لی گئی‘‘ اور ’’بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟ اسے کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے؟‘‘ وغیرہ جیسی سرخیوں کے ساتھ اس نسل کو ورغلا رہا ہے… اور بدلے میں لاکھوں ویوز اور مناظر پاکر ایڈورٹائزنگ کی مد میں اپنے اپنے حصے کے پیسے یا شہرت بٹور رہا ہے۔ گو کہ یہ عمل عام سیاسی اور دیگر ملکی معاملات میں بھی دہرایا جاتا ہے لیکن ایک سائنسی خبر کو لے کر غلط معلومات کی فراہمی اور نوجوان نسل کو گمراہی اور جہالت میں دھکیلنے کا یہ عمل دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

ایسے میں کسی ایسے سائنسی جریدے کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جس پر شائع ہونے والا مواد نہ صرف سب کےلئے قابلِ قبول ہو بلکہ مستند معلومات کا ذخیرہ لئے ہوئے ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ غلط معلومات کی فراہمی کی صورت میں قابلِ گرفت بھی ہو، کیونکہ یہ علم کا معاملہ ہے… ایک نسل میں سائنسی شعور بیدار کرنے اور سائنس کے متعلق درست معلومات کے حصول کا معاملہ ہے۔

پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں صرف اسی قوم نے بقاء پائی ہے جس نے عصری تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ اور آنے والا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اس میں صرف وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو سائنس کی دنیا میں اپنا نام کما سکیں۔ ایسے میں یہ نہایت ضروری ہے کہ وطن عزیز کی نوجوان نسل میں بھی سائنسی شعور بیدار کیا جائے اور ان تک درست سائنسی معلومات پہنچائی جائیں۔ اگر آپ سائنس کے شعبے میں ترقی رکھنے والے ممالک کا جائزہ لیں تو سب میں ایک قدر مشترک پائیں گے؛ اور وہ یہ کہ ان تمام ممالک میں سائنسی جرائد کی اچھی خاصی تعداد ہے کہ جو ماہانہ، سہ ماہی، حتیٰ کہ ہفتہ وار بنیادوں پر شائع ہوتے ہیں، اور مقبول عام کے درجے پر فائز ہیں۔ ان کے عمومی و آن لائن قارئین کی تعداد بلاشبہ لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں میں ہوتی ہے اور یہ فیشن و تفریحی جرائد کی بہ نسبت کہیں زیادہ تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔

جبکہ ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔

سائنسی جرائد تو ایک طرف، اخبارات کے ہفتہ وار یا ماہانہ میگزین میں ’’سائنس و ٹیکنالوجی‘‘ کے نام سے اگر کوئی سیکشن ہوتا بھی ہے تو اس میں ایسی مضحکہ خیز خبریں ہوتی ہیں کہ سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔ مثلاً ایک معروف ہفتہ وار میگزین کے سائنس و ٹیکنالوجی سیکشن میں کچھ سرخیاں یوں تھیں: ’’دنیا کے قدیم ترین درخت دریافت‘‘ اور ’’آم کے پتے کھائیں، تندرست ہو جائیں‘‘ وغیرہ۔

اب آپ ہی بتائیے کہ ایسی ’’سائنسی‘‘ خبریں پڑھ کر ہمارا نوجوان بلیک ہول کو کالا دھبہ نہیں سمجھے گا تو اور کیا کرے گا؟

یہ درست ہے کہ جدید دور میں اطلاعات تک رسائی حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں رہا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنی اطلاعات تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے اتنا ہی ’’علم‘‘ سے دوری بڑھتی جارہی ہے۔ اس طرح پیدا ہونے والے اس خلاء کو صرف ایسے جرائد ہی پورا کرسکتے ہیں جو سائنسی خبروں کو مکمل ذمہ داری کے ساتھ کماحقہ شائع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

کسی بھی نسل کی فکری تعمیر میں جرائد کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ جرائد ہی ایک قوم کی فکری منزل متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ زیر تعلیم نوجوان اپنے معینہ نصاب کے بجائے اضافی مطالعے اور غیر نصابی کتب و جرائد سے زیادہ علم حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی جامعات میں ہر شعبے کے اپنے اپنے مجلے ہوتے ہیں، جن میں شائع ہونے والی تحاریر طالب علموں کی فکری تعمیر میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ یہاں پر میں اپنی مثال بیان کرنا چاہوں گا۔

میں جب میٹرک کا طالب علم تھا تو فزکس سے انتہا درجے کا لگاؤ پیدا ہوا۔ لیکن طبیعیات کی نصابی کتاب میری علمی تشنگی کو کم کرنے سے قاصر تھی۔ ایسے میں کہیں سے پتا چلا کہ پاکستان میں ’’گلوبل سائنس‘‘ کے نام سے ایک ماہانہ سائنسی جریدہ شائع ہوتا ہے جس میں اردو زبان میں پیش بہا معلومات شائع ہوتی ہیں۔ ایک بار جو اس جریدے کو خریدا تو سالہاسال تک اس کا مستقل قاری رہا۔ اور اب یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جتنا علم میں نے اس ایک جریدے کے مطالعے سے حاصل کیا، اتنا میری تمام تعلیمی، نصابی و غیر نصابی کتب اور دنیا جہان کی ویب سائٹس کے مطالعے سے بھی حاصل نہیں ہوا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج پیشہ ورانہ زندگی میں میرا شعبہ خالصتاً غیر سائنسی ہونے کے باوجود سائنس کی دنیا میں میری معلومات اتنی ہیں جتنی کہ شاید بذات خود سائنس کی فیلڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی بھی نہ ہوں گی۔

یہ صرف دعویٰ نہیں، بلکہ اس کا عملی ثبوت آپ انٹرنیٹ پر موجود میری سائنسی تحاریر سے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

صرف میں ہی نہیں بلکہ میرے ہم عمر اور مجھ سے بڑے وہ تمام طالب علم جو سائنس کے رسیا تھے اور اب عمر کے تیس سے چالیس کے پیٹے میں ہیں، وہ سب اس ایک جریدے ’’گلوبل سائنس‘‘ کی بدولت فکر و علم کے ایک ایسے منصب پر فائز ہیں جس پر ہم سے بعد میں آنے والے طلباء نہیں پہنچ سکے۔ کیونکہ بدقسمتی سے علم کی ناقدری، سرکاری سرپرستی کا نہ ہونا اور اس جیسے دیگر عوامل کے باعث گلوبل سائنس جیسا علمی جریدہ بھی ایک دن بند ہوگیا۔ اور اب یہ حال ہے کہ نئی نسل، جسے فکری و علمی سطح پر ہم سے بلند مقام پر ہونا چاہئے تھا، وہ انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر مستند معلومات کے حصول کےلئے ماری ماری پھرتی ہے؛ اور ’’چکریوں، علمی نوسر بازوں‘‘ کے ہتھے چڑھتی نظر آتی ہے۔

گزشتہ دنوں اس نسل کا یہ حال دیکھ کر شدت سے دل میں یہ خواہش جاگی… کہ اے کاش! اس دور میں بھی گلوبل سائنس جیسا کوئی سائنسی جریدہ ہوتا۔

گلوبل سائنس نے ایک پوری نسل کی علمی آبیاری اور فکری تعمیر کس طرح کی، اس کی عملی تصویر دیکھنا ہو تو آن لائن خصوصاً سوشل میڈیا پر اس جریدے کے جلائے چراغوں کو روشنی پھیلاتے ہوئے دیکھئے۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ کس طرح صرف ایک رسالہ ایک قوم کی فکر کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ بات بھی میں پورے وثوق اور دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت آن لائن آپ کو جو بھی معدودے چند لکھاری بلیک ہول پر درست معلومات مہیا کرتے نظر آئیں گے، ان سب نے گلوبل سائنس یا پھر اس سے پہلے شائع ہونے والے ’’سائنس ڈائجسٹ‘‘ اور ’’سائنس میگزین‘‘ سے کسی نہ کسی صورت ضرور استفادہ کیا ہوگا۔

ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسے لکھاریوں کےلئے باقاعدہ ایک پلیٹ فارم ہوتا، کوئی سائنسی جریدہ ہوتا جہاں یہ اپنے قلم کے جوہر دکھلا سکتے اور علم کی روشنی سے نئی نسل کو منور کر سکتے۔ مگر تاحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا…

تحریر خاصی طویل ہوگئی۔ اختتام اس حسرت نما دعا پر کروں گا کہ… اے کاش کوئی علیم احمد ایک بار پھر سے اٹھے، کوئی گلوبل سائنس پھر سے شائع ہو، اور نوجوان نسل کی فکری و سائنسی آبیاری کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اے کاش! جلی حروف میں یہ سرخی پڑھنے کو ملے:

’’بلیک کی کوئی تصویر نہیں لی گئی، بلکہ صرف واقعاتی افق کی نقشہ کشی کی گئی ہے‘‘

اے کاش کہ ہمارے اربابِ اقتدار کو بھی ہوش آئے اور وہ ایک سائنسی جریدے کی ضرورت اور نئی نسل تک درست سائنسی معلومات کی فراہمی کی اہمیت کو صحیح معنوں میں محسوس کریں؛ اور اس چراغ کو جلا کر پھر بجھنے نہ دیں۔ کیونکہ یہی وقت کی ضرورت ہے۔

اگر ایسا نہ ہوا تو خدانخواستہ… ہماری یہ نوجوان ہوتی نسل مستقبل قریب میں ظلمتِ شب کے ایسے تاریک اندھیروں میں داخل ہوجائے گی کہ جس میں سوائے ٹامک ٹوئیوں کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے گا؛ اور، خاکم بدہن، ایک پوری نسل کا ٹیلنٹ ایک ’’جہالتی بلیک ہول‘‘ کی نذر ہوجائے گا۔

شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات!