پاکستان میں اوسٹیو پوروسس صورتحال

7کروڑ پاکستانی خواتین میں سے تقریباً 12 فیصد استخوانی بوسیدگی (اوسٹیو پوروسس ) کے خطرے سے دو چار ہیں۔ پاکستان اوسٹیو پوروسس سوسائٹی کے صدر نے پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اوسٹیو پوروسس کے مرض  میں ہڈیاں بھربھری اور کمزور ہوجاتی ہیں، معمولی چوٹ بھی فریکچر کی وجہ بن جاتی ہے۔ یہ تمام مشکلات خواتین میں سن یاس (مینو پاز) کے بعد ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ یہ مرض بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 60 سے 70 برس کی ایک تہائی خواتین اور 50 سال یا اس سے زائد عمر کی دو تہائی خواتین اس مرض کا شکار ہوجاتی ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ڈاکٹر کامران حمید نے کہا کہ پہلے خیال تھا کہ ہڈیوں کی بوسیدگی عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ ایک قدرتی عمل ہے۔ اب یہ علم ہوا ہے کہ یہ مرض نہ صرف دوائوں سے قابلِ علاج ہے بلکہ احتیاط و پرہیز سے بھی اس کا تدارک کیا جاسکتا ہے: ’’ہڈیوں کی نشوونما بچپن سے 25 یا 26 سال کی عمر تک جاری رہتی ہے۔ عمر کی اس حد کے بعد نہ صرف یہ عمل رک جاتا ہے بلکہ ہڈیوں کی کمزوری شروع ہوجاتی ہے۔ اس عمر تک ہڈیاں جتنا کیلشیم جمع کرتی ہیں اسے ’’بون ماس‘‘ کہا جاتا ہے۔‘‘ انہو ںنے غذا میں کیلشیم کے اضافے پر زور دیا خواہ وہ پھلوں، ادویہ یا سبزیوں کے ذریعے ہی کیوں نہ لیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ اوسٹیو آرتھرائٹس ، اوسٹیو پوروسس سے زیادہ خطرناک ہے: ’’اوسٹیو آرتھرائٹس ہڈیوں کے جوڑ کی شکستگی کا عمل ہے جو اوسٹیو پوروسس سے قدرے مختلف ہے۔ اس میں ہڈیوں کی ساخت بگڑنے لگتی ہے۔‘‘

گائناکولوجی کی ماہر ڈاکٹر نصرت ایچ خان نے بتایا کہ دنیا بھر کی خواتین میں اس مرض کی وجوہ زچگی سے بھی منسلک ہوتی ہیں۔ پاکستان میں قبل ازوقت شادیوں کی وجہ سے ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں کم از کم 20 کروڑ خواتین اس مرض کی شکار ہیں ۔ ان میں ایک تہائی خواتین 60 تا 70 برس اور دو تہائی خواتین 80 سال سے زائد عمر کی حامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق امراضِ قلب کے بعد یہ دوسرا بڑا مرض ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔

ممتاز سرجن ڈاکٹر رحمن بیگ نے بتایا کہ خواتین کے علاوہ مردوں میں بھی یہ مرض پایا جاتا ہے۔ کیلشیم کی کمی سے مرد حضرات بھی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ 1990ء میں دنیا بھر میں کولہے کی ہڈی کے 17 لاکھ فریکچر ہوئے تھے اور 2050ء تک یہ شرح 63 لاکھ تک جا پہنچے گی۔ خدشہ ہے کہ نصف واقعات ایشیا میں ہوں گے۔ واضح رہے کہ ’’اوسٹیو پوروسس کا عالمی دن‘‘ ہر سال 20 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔