تعارف

ماہنامہ گلوبل سائنس نے اپنی اشاعت کا آغاز جنوری 1998ء سے کیا۔ تب سے لے کر آج تک یہ ہر ماہ باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے اور، الحمدللہ، پاکستان کی تاریخ میں اُردو زبان کا سب سے کثیر الاشاعت عمومی سائنسی جریدہ (پاپولر سائنس میگزین) بن چکا ہے۔ ایک عشرے سے زیادہ عرصے پر محیط، اپنے سفر کے دوران ماہنامہ گلوبل سائنس نے اُردو زبان کی سائنسی صحافت میں ایسی متعدد کامیابیاں حاصل کیں جو اس سے پہلے پاکستان کے کسی دوسرے سائنسی جریدے کے حصے میں نہیں آئیں۔ اُردو زبان کی سائنسی صحافت میں جدید معیارات کا تعین، ماہنامہ گلوبل سائنس کی انہی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ الحمدللہ، آج انہی معیارات کی بدولت بلاخوفِ تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُردو زبان میں بھی سائنس کا عوامی ابلاغ (پبلک کمیونی کیشن آف سائنس) اتنی ہی خوبی، سلاست، روانی، عمدگی اور درستگی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے جتنا کہ عصرِ حاضر کی دیگر ترقی یافتہ زبانوں، بالخصوص انگریزی میں کیا جارہا ہے۔

مزید برأں، ماہنامہ گلوبل سائنس نہ صرف ’’آڈٹ بیورو آف سرکولیشن‘‘ (ABC) سے تصدیق شدہ اور ’’پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ‘‘ (PID) کی فہرستِ مطبوعات میں شامل جریدہ ہے، بلکہ یہ اُردو زبان کا پہلا سائنسی جریدہ بھی ہے جو ’’آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی‘‘ (APNS) کا مکمل رُکن (Full Member) ہے۔ مزید برأں، ماہنامہ گلوبل سائنس کو اے پی این ایس کی ’’ٹریننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیٹی‘‘ میں گزشتہ کئی چند سال سے مسلسل شمولیت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اپنی تحریروں کی سلاست و روانی اور درستگی کے باعث آج گلوبل سائنس کو اُردو زبان میں سائنس کی بنیادی سے لے کر جدید ترین معلومات تک کے ضمن میں سب سے قابلِ بھروسہ ماخذ کا درجہ بھی حاصل ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں، جدید دور کی مناسبت سے اُردو زبان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صحافت (آئی ٹی جرنلزم) کی ابتداء کرنے کا اعزاز بھی گلوبل سائنس ہی کو حاصل ہے۔ یہ فروری 1998ء سے گلوبل سائنس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر باقاعدگی سے شائع ہونے والی عام فہم اور ماہرانہ تحریریں ہی تھیں جن کی مقبولیت دیکھتے ہوئے بعد ازاں کئی پاکستانی اخبارات و جرائد نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے صفحات مخصوص کرنا شروع کئے۔ مطبوعات (پبلی کیشنز) کے زمرے میں ’’این سی آر آئی ٹی ایکسی لینس ایوارڈ 2001‘‘ اسی حوالے سے ماہنامہ گلوبل سائنس کی خدمات کا ایک اعتراف تھا۔

ادارتی مشن

اپنے پہلے ہی شمارے سے ماہنامہ گلوبل سائنس نے ترقی یافتہ دنیا اور پاکستان کے مابین علمی خلیج (knowledge divide) کم کرنے اور جدید و بنیادی سائنسی معلومات اُردو داں طبقے تک پہنچانے کے لئے نت نئے طریقوں پر کام کیا ہے۔
ایک عمومی سائنسی جریدے کی حیثیت سے ماہنامہ گلوبل سائنس کا ادارتی مشن یہی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں مستند ذرائع سے جدید و بنیادی معلومات جمع کی جائیں اور انہیں پوری درستگی کے علاوہ سنجیدہ اور دلکش اندازِ بیان میں اُردو داں طبقے کے سامنے کچھ اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ قارئین کے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ اُن میں سائنسی فکر بیدار کرنے کا باعث بھی بنیں — اور اُن کی ایسی ذہنی تربیت کریں کہ وہ معاشرے کے سلجھے ہوئے شہری بن سکیں۔

ادارتی مشن کا حصول

اپنے اسی ادارتی مشن کی تکمیل کے لئے ماہنامہ گلوبل سائنس ہر ماہ مستند اور سلیس تحریروں کے ذریعے سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبہ جات کا وسیع تر احاطہ کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے جن میں حیاتی ٹیکنالوجی سے لے کر کونیات تک، ماحولیات سے لے کر حیاتی تنوع تک، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لے کر کمپیوٹر سائنس تک کم و بیش تمام سائنسی موضوعات شامل ہیں۔

علاوہ ازیں، اپنے ادارتی مشن پر پوری تندہی سے کاربند رہنے کے لئے ماہنامہ گلوبل سائنس نے خود عملی پر مبنی (proactive) اور حرکت پذیر (dynamic) پالیسی اپنائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک یہ جریدہ متعدد خوشگوار تبدیلیوں سے روشناس ہوچکا ہے — اور جس کے باعث قارئین کی تعداد میں بھی ہر ماہ اضافہ ہورہا ہے۔

مثلاً ابتداء میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے شائع ہونے والے مضامین کو بتدریج پختہ بنایا گیا اور ایسے تدریسی مضامین کی شکل دی گئی کہ جن کے ذریعے ہمارے مبتدی قارئین کو بھی متعلقہ شعبہ جات میں پیشہ ورانہ مہارت کے حصول میں مدد مل سکے۔ اسی حکمت عملی پر کاربند رہتے ہوئے ماہنامہ گلوبل سائنس نے اپنے شعبہ خبر وسعت دیتے ہوئے کئی ایک عنوانات کے تحت تقسیم کیا، اور آج سائنس کے مختلف موضوعات پر تازہ ترین خبریں کم و بیش سات (7) مختلف عنوانات کے ذیل میں شائع کی جاتی ہیں۔ اُردو زبان کی سائنسی صحافت میں یہ اب تک کی پہلی اور واحد مثال ہے جب کسی سائنسی جریدے نے اپنے شعبہ خبر کو اُس انداز سے ہم آہنگ کیا ہے جو بین الاقوامی سطح کی سائنسی صحافت میں رائج ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سائنس کی دنیا میں جاری، تازہ ترین مباحث — مثلاً سائنسی و فنیاتی ترقی کے معاشی و معاشرتی ثمرات اور مکالمہ مذہب و سائنس وغیرہ — کو بھی ماہنامہ گلوبل سائنس کی اشاعتوں میں خصوصی جگہ دی گئی۔

اسی مشن کو آگے بڑھانے کی سعی میں گلوبل سائنس ملٹی پبلی کیشنز نے، جو ماہنامہ گلوبل سائنس کا اشاعتی ادارہ ہے، مختلف سائنسی و فنیاتی موضوعات پر گاہے گاہے کتابیں بھی شائع کیں۔ اس ضمن میں اب تک HTML: ایف ٹی پی اور ویب ہوسٹنگ کے ساتھ (2000ئ)؛ C/C++ (2003ئ)؛ کائنات کی تخلیق (2003ئ)؛ زِیچ 2005؛ آسان کمپیوٹر ہارڈویئر گائیڈ (2005ئ) اور؛ آپ اور ذیابیطس (2006ئ) زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں۔
ہر عمر اور ہر طبقے کا سائنسی جریدہ

یہ تاثر غلط ہے کہ ماہنامہ گلوبل سائنس کسی خاص طبقے یا کسی خاص عمر سے تعلق رکھنے والے قارئین کا جریدہ ہے۔ اس کے برعکس، ادارے کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ گلوبل سائنس کے ذریعے ہر طرح کا مزاج رکھنے والے قارئینِ سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریریں شائع کی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گلوبل سائنس کا کم و بیش ہر شمارہ، سائنس کے وسیع تر مضامین کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ مکالمہ مذہب و سائنس ہو، بنیادی/ اطلاقی تحقیق ہو، ٹیکنالوجی ہو، جدت طرازی ہو، کمپیوٹر سائنس ہو، انفرادی/ شخصی تعمیر و ترقی ہو، نئی نسل کی تعلیم و تربیت ہو، صحت ہو، دفاع ہو یا کوئی اور پہلو، ہر چیز کے متعلق معلومات گلوبل سائنس میں شائع کی جاتی رہتی ہیں۔ ذیل میں ان موضوعات کا قدرے تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

اِک نسخۂ کیمیا: ماہنامہ گلوبل سائنس کا ہر شمارہ ’’اک نسخہ کیمیا‘‘ سے شروع ہوتا ہے، جو اِس جریدے کا مقبول ترین سلسلہ بھی ہے۔ اس عنوان کے تحت قرآنِ پاک کی آیاتِ مبارکہ میں موجود سائنسی مباحث اور قرآنِ پاک کی دعوتِ فکر پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ تاہم ’’اِک نسخہ کیمیا‘‘ کے تحت اس طرح کا پیرایۂ بیان اختیار کیا جاتا ہے کہ قارئین، قرآنِ پاک کی عظمت کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق اور سنجیدہ فکری جستجو کی طرف بھی متوجہ ہوں — اور محض ’’یہ تو قرآنِ پاک میں 1400 سال پہلے آچکا ہے‘‘ کہہ کر خود کو مطمئن محسوس نہ کریں۔
الحمدللہ، گلوبل سائنس کا یہ سلسلہ نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک میں یکساں مقبول ہے اور خصوصی توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی مقبولیت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ناخواندہ افراد بھی اپنے گھر کے خواندہ افراد سے بطورِ خاص یہ سلسلہ پڑھوا کر سنتے ہیں۔

اداریہ: اُردو زبان میں اداریوں کی عمومی روایت کے برخلاف، ماہنامہ گلوبل سائنس نے ایک بالکل مختلف انداز اختیار کرتے ہوئے اپنے اداریوں کو بالکل نیا رنگ دیا ہے۔ اِن اداریوں میں سائنس سے متعلق موضوعات پر صرف گفتگو ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس حوالے سے قارئین کو بھی سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مزید برأں، گلوبل سائنس کے اداریوں میں صرف مسائل کی نشاندہی پر ہی اکتفا نہیں کی جاتی بلکہ ان کے ممکنہ اور قابلِ عمل حل بھی تجویز کئے جاتے ہیں۔

شعبہ خبر: یہ ماہنامہ گلوبل سائنس کا طرۂ امتیاز ہے جس پر اُردو داں طبقہ بلاشبہ فخر کرسکتا ہے۔ سرِدست یہ شعبہ کئی ذیلی عنوانات میں منقسم ہے جن میں دنیائے سائنس؛ صحت عامہ و طبّی ٹیکنالوجی؛ سافٹ ویئر/ ہارڈویئر؛ پروڈکٹ ریویو؛ ڈیفنس کارنر؛ محوِ حیرت ہوں؛ کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی؛ ماحولیاتی منظر نامہ؛ لہو خورشید کا (متبادل ذرائع توانائی)؛ اور تیسری دنیا، عالمِ اسلام اور پاکستان میں سائنس شامل ہیں۔
مذکورہ دس عنوانات کے تحت ہر ماہ باقاعدگی سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تحقیق و ترقی کا تازہ احوال پیش کیا جاتا ہے جس میں بنیادی سائنس سے لے کر اطلاقی پہلو تک شامل ہیں۔ اس ضمن میں بطورِ خاص ایسی خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جو مقامی تناظر میں اہمیت رکھتی ہوں، اور جن سے وطنِ عزیز میں بھی استفادہ کیا جاسکتا ہو۔ ان سب کے علاوہ ’’ایک خبر، ایک مضمون‘‘ کے عنوان سے بعض اوقات ضرورت پڑنے پر اہم خبروں کی زیادہ تفصیلات بیان کرنے کی غرض سے خبری مضامین (نیوز فیچرز) بھی شائع کئے جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ سائنسی خبروں کی اس منظم انداز میں بھرپور طریقے پر پیشکش، اُردو زبان میں ماہنامہ گلوبل سائنس ہی نے متعارف کروائی ہے۔

خصوصی مضامین/ رپورٹیں: عموماً ماہنامہ گلوبل سائنس کے ہر شمارے میں تین خصوصی مضامین شامل ہوتے ہیں جن کے ذریعے سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی جدت طرازیوں، ایجادات، اختراعات اور انقلاب انگیز پیش رفت کا احوال قدرے تفصیل سے شائع کیا جاتا ہے۔
اپنی اب تک کی اشاعتوں میں ماہنامہ گلوبل سائنس ایسے سینکڑوں خصوصی مضامین اور تفصیلی رپورٹیں شائع کرچکا ہے جن میں ہیومن جینوم پروجیکٹ، مجازی نیوکلیائی تجربات، ارتقاء و تخلیق کی بحث، انسانی کلوننگ، برڈ فلو، سوائن فلو، ریورس جینیٹکس، سیڈ ٹرمنیشن ٹیکنالوجی، میڈیکل ٹرانسکرپشن، ہیکنگ، جوائنٹ اسٹرائک فائٹرز (JSF)، کثیر المنزلہ مائیکرو پروسیسر، کیوس کا نظریہ، سونامی، پاکستان میں زلزلوں کا سائنسی جائزہ، متبادل ذرائع توانائی، زلزلوں کی پیش گوئی، خودکار حملہ آور طیارے، لارج ہیڈرون کولائیڈر، فارماکوجینومکس اور اتصالی کیمیا صرف چند قابلِ ذکر مثالیں ہیں۔

سائنس لیکچرز: قارئین، بالخصوص نوجوان نسل میں سائنسی فکر کی گہرائی اور وسعت کو مہمیز کرنے کے لئے گلوبل سائنس میں گاہے گاہے دنیا کے نامی گرامی سائنس دانوں کے فکر انگیز مضامین اور مقالہ جات کے سلیس اُردو تراجم بھی شائع کئے جاتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں اب تک البرٹ آئن اسٹائن، ڈاکٹر عبدالسلام، جیمس واٹسن، اسٹیفن ہاکنگ، راجر پنروز، ڈیوڈ ڈچ، ایرک ڈریکسلر، میشیو کاکو، جان ہارگن، سر جان میڈوکس، رچرڈ فائن مین، فرانسس کرک، کارل ساگان، پال ڈیویز، جان گریبن، رچرڈ ڈاکنز، ایلن ٹیورنگ، جان رینی، ڈاکٹر ہروِگ شوپر اور ڈاکٹر فلپ کیمبل کی تحریروں کے اُردو تراجم شائع کئے جاچکے ہیں۔ اپنی تاریخی اہمیت کی بناء پر گلوبل سائنس کے اکثر قارئین اِن مضامین کو نہ صرف سنبھال کررکھتے ہیں بلکہ اشاعت کے برسوں بعد بھی ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔

شعبہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ: اگرچہ اس وقت پاکستان میں بھی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اِن دونوں ایجادات کے مثبت استعمال کی شرح بہت کم ہے۔ اپنے قارئین میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کو فروغ دینے کے لئے گلوبل سائنس میں ہر ماہ باقاعدگی سے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے حوالے سے مضامین شائع کئے جاتے ہیں۔ ان میں مفت اور کارآمد ڈائون لوڈز، کمپیوٹر ٹپس اور ٹربل شوٹنگ، ہارڈویئر رائونڈ اَپ، اور نیٹ نامہ کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ ان صفحات کے ذریعے اب تک بلاشبہ ہزاروں قارئین کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے میدان میں اپنی مہارت بڑھانے میں خاطر خواہ استفادہ کرچکے ہیں۔ گلوبل سائنس میں اب تک ایک ہزار سے زائد مفت ڈائون لوڈز، 1500 سے زیادہ مفید کمپیوٹر ٹپس، اور لگ بھگ 2,000 سنجیدہ اور علمی ویب سائٹس کے تجزیئے پیش کئے جاچکے ہیں۔
اسی طرح کمپیوٹر سائنس کے حوالے سے ہائپر ٹیکسٹ مارک اَپ لینگویج (HTML)، کمپیوٹر پروگرامنگ، C/C++، جاوا، ڈاٹ نیٹ، اے ایس پی/ جے ایس پی، سی شارپ (C#)، اوریکل، سی ایف ایم ایل اور پی ایچ پی وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی اور قسط وار تدریسی مضامین بھی شائع کئے جاچکے ہیں۔

علاوہ ازیں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال میں سہولت کاری کے لئے مختلف آپریٹنگ سسٹمز اور ایپلی کیشن سافٹ ویئر کے بارے میں بھی عملی اور معلوماتی مضامین شائع کئے جاتے ہیں۔ ان میں اب تک ونڈوز، لینکس (مختلف ڈسٹری بیوشنز)، ایم ایس آفس، فرنٹ پیج، ایم ایس ایکسل، اوپرا، فائر فاکس، انٹرنیٹ ایکسپلورر، ایم ایس ایکسس، اوپن آفس، تھری ڈی اسٹوڈیو میکس، ایڈوبی فوٹوشاپ اور دوسرے کئی سافٹ ویئر/ آپریٹنگ سسٹمز کی بابت چھوٹی بڑی تحریریں شائع کی جاچکی ہیں۔ ان تحریروں کی بدولت پاکستان کے اُردو داں طبقے کو اپنی کمپیوٹر خواندگی (کمپیوٹر لٹریسی) بڑھانے میں زبردست مدد ملی ہے۔ اِن تحریروں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے کئی ایک اخبارات و رسائل نے گلوبل سائنس میں شائع شدہ تحریریں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ، دونوں طرح سے اخذ کرکے (یا من و عن) شائع کی ہیں۔۔۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اس طرح شعبہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ہمارے قارئین کے لئے آف لائن اور آن لائن، دونوں لحاظ سے کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

8 تا 80 سالہ قارئین کے لئے: یہ گلوبل سائنس کا ایک اور اہم شعبہ ہے، جس کا مقصد سائنس کے نو عمر طالب علموں اور عام افراد کے لئے ہر ممکن حد تک انتہائی آسان زبان میں مستند سائنسی معلومات پہنچانا ہے۔ دیگر شعبہ جات کی طرح یہ شعبہ بھی کئی ایک ذیلی عنوانات میں تقسیم ہے: سائنسی سوال جواب، سائنس دوست، کم خرچ اور آسان سائنسی تجربات، سمجھیں اِن کے کام کو، گلوبل سائنس ورکشاپ، اور گلوبل سائنس لغت۔
زبان کی سادگی اور عام فہم معلومات کی بدولت، سائنس کے طلباء اور اساتذہ، دونوں ہی اس شعبے کو بہت سراہتے ہیں۔ بلکہ، بعض اسکولوں سے یہ فرمائش بھی آتی رہتی ہے کہ اِن صفحات میں اضافہ کیا جائے، کیونکہ وہاں کے اساتذہ اِن صفحات میں شائع ہونے والے کم خرچ اور آسان تجربات کا اپنے کمرۂ جماعت میں بچوں کے سامنے باقاعدہ عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں تاکہ بچوں میں سائنس سے دلچسپی میں اضافہ ہو۔ اس طرح یہ صفحات ابتدائی سطح پر نصابی سرگرمیوں کی مدد کرنے میں بھی اپنا کردار بخوبی ادا کررہے ہیں۔

تمام مذکورہ بالا حقائق اسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ماہنامہ گلوبل سائنس ایک کاروباری اور تجارتی جریدہ ہونے کے باوجود ایک قومی مشن کا علمبردار ہے۔۔۔ ایک ایسا مشن جس کا مقصد پاکستان میں متحمل مزاج، بردبار اور علم دوست معاشرے کے فروغ کے علاوہ ایک ایسی معیشت کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر کرنا ہے جو علم کی بنیاد پر ترقی کرنے والی ہو، نہ کہ بیرونی امداد پر۔